روسی فوج نے ایک نیا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل، اوریشنک، متعارف کرایا ہے، جو روایتی حملے کی صلاحیت کو بڑھانے اور نیٹو کی دفاعی حکمت عملی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ نومبر میں یوکرین کے شہر دنیپرو پر کیے گئے حملے میں پہلی بار اس میزائل کا استعمال کیا گیا۔ فارن پالیسی میگزین کے مطابق، یہ میزائل متعدد وارہیڈز اور ذیلی گولے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے اس کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
دیگر روایتی بیلسٹک میزائلوں کے برعکس، جن میں ایک ہی وارہیڈ ہوتا ہے، اوریشنک دورانِ پرواز کئی ذیلی گولے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بڑے علاقوں کو نشانہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور نومبر کے حملے کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اوریشنک میزائل چھ وارہیڈز لے جا سکتا ہے، اور ہر وارہیڈ مزید چھ ذیلی گولے خارج کر سکتا ہے، یعنی ایک ہی میزائل سے مجموعی طور پر 36 دھماکہ خیز آلات گرائے جا سکتے ہیں۔
یہ کلسٹر طرز کا حملہ خاص طور پر ایئر بیسز اور دیگر حساس فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
روسی میزائل حکمت عملی اور نیوکلیئر حملے کی ضرورت میں کمی
یہ میزائل جوہری وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق، اس کی جدید روایتی حملے کی صلاحیت نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت کو کم کر سکتی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ میزائل نیوکلیئر حملوں کی ضرورت کو محدود کر سکتا ہے، جو ماسکو کی بدلتی ہوئی فوجی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
ممکنہ جنگ میں، اوریشنک نیٹو کے کلیدی اسٹریٹیجک مقامات، جیسے ایئر بیسز اور کمانڈ سینٹرز، کو غیر فعال کر سکتا ہے، جس سے نیوکلیئر تصادم کی نوبت آنے سے پہلے ہی ماسکو کو برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
نیٹو کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
نیٹو کا ایئر بیسز پر زیادہ انحصار اس کے لیے ایک بڑی کمزوری بن سکتا ہے۔ جدید جنگی طیارے، بشمول F-35، انتہائی پیچیدہ دیکھ بھال کے متقاضی ہوتے ہیں، اور انہیں متبادل انفراسٹرکچر مہیا کرنا آسان نہیں ہوتا۔
روسی میزائل ذخیرہ، جس میں اسکندر اور Kh-101 شامل ہیں، ماضی میں درست نشانہ بندی اور مؤثر دفاعی نظاموں کی وجہ سے محدود کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ تاہم، اوریشنک میزائل کا سب-منییشن سسٹم اسے زیادہ مہلک بنا دیتا ہے، کیونکہ یہ وسیع علاقے پر حملہ کر سکتا ہے اور فضائی دفاعی نظام کی مزاحمت کو کمزور کر سکتا ہے۔
نیٹو کی دفاعی حکمت عملی کیا ہوگی؟
نیٹو کے موجودہ یورپی میزائل دفاعی نظام اوریشنک میزائل کے خلاف محدود کارکردگی رکھتے ہیں۔ یہ میزائل زیادہ بلندی پر پرواز کرتا ہے، جہاں زیادہ تر انٹرسیپٹر میزائل نہیں پہنچ سکتے، اور زمین پر اترتے ہوئے انتہائی تیز رفتاری اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے پیٹریاٹ (Patriot) جیسے دفاعی نظام مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ صرف ایرو 3 (Arrow 3) اور SM-3 بلاک IIA جیسے جدید انٹرسیپٹر میزائل ہی اسے روک سکتے ہیں، مگر ان کی دستیابی نیٹو میں بہت محدود ہے۔
فارن پالیسی کے مطابق، نیٹو کے لیے بہتر حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے طیاروں کو مختلف چھوٹے رن ویز اور شاہراہوں پر تقسیم کر دے تاکہ وہ بڑے ایئر بیسز پر حملے کی زد میں نہ آئیں۔ لیکن یہ حکمت عملی لاجسٹک طور پر مشکل ہے، کیونکہ جدید لڑاکا طیارے خصوصی دیکھ بھال اور آلات کے محتاج ہوتے ہیں۔
بیلاروس میں اوریشنک کی تعیناتی: نیٹو کے لیے مزید چیلنجز
نیٹو کے لیے ایک اور تشویشناک پیش رفت بیلاروس میں اوریشنک میزائل سسٹم کی ممکنہ تعیناتی ہے۔ بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ روس جلد ہی یہ جدید میزائل سسٹم بیلاروس کی فوج میں شامل کرے گا۔
انہوں نے کہا:
"ہمارے پاس پہلے ہی ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں۔ اب، جلد ہی اوریشنک ہائپرسونک ہتھیار بیلاروسی فوج میں شامل کیے جائیں گے۔”
رواں سال جنوری میں، لوکاشینکو نے اس میزائل کے بیلاروس میں تعینات ہونے کا عندیہ دیا تھا، اور گزشتہ سال انہوں نے صدر پیوٹن سے اس میزائل کو باضابطہ طور پر بیلاروس میں نصب کرنے کی درخواست کی تھی۔
لوکاشینکو نے تجویز دی ہے کہ روسی فوجی اس میزائل کے دیکھ بھال کے عمل کی نگرانی کریں جب تک کہ بیلاروسی فوج مکمل تربیت حاصل نہ کر لے۔
صدر پیوٹن نے اس درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 2025 کے دوسرے نصف میں اوریشنک میزائل کی تعیناتی ممکن ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کی سیریل پیداوار میں اضافہ ہو جائے اور یہ روس کی اسٹریٹیجک فورسز میں شامل کر دیا جائے۔
نتیجہ
اوریشنک میزائل نیٹو کے لیے ایک نیا اسٹریٹیجک چیلنج ہے، جس کا مؤثر دفاع موجودہ حالات میں مشکل نظر آتا ہے۔ نیٹو کو اپنی فضائی حکمت عملی اور دفاعی نظام میں نمایاں تبدیلیاں کرنا ہوں گی، بصورت دیگر روس کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت اس کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔

