رہوڈ آئی لینڈ کی ڈاکٹر راشا علویہ کو لبنان سے واپسی پر، جائز H-1B ویزا رکھنے کے باوجود، امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔
34 سالہ ڈاکٹر راشا علویہ، جو گزشتہ سال جولائی سے براؤن میڈیسن سے منسلک تھیں، جمعرات کی شام بوسٹن لوگن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روکی گئیں اور بعد ازاں پیرس جانے والی پرواز پر سوار کر دی گئیں۔
ان کے وکیل تھامس ایس براؤن کے مطابق، امریکی سفارت خانے نے انہیں H-1B ویزا جاری کیا تھا، جو 2027 کے وسط تک مؤثر تھا اور خصوصی مہارت کے حامل افراد کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ تاہم، امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے انہیں حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔
غیر منصفانہ حراست اور ملک بدری پر براؤن میڈیسن کے ماہرین کا ردعمل
براؤن میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈاکٹر جارج بَیلِس نے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
"ڈاکٹر علویہ کی بغیر کسی قانونی کارروائی کے حراست اور ملک بدری جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ان کے مریضوں کو بھی ان کی مہارت اور خدمات سے محروم کر دیا گیا ہے۔”
عدالتی درخواست کے مطابق، ڈاکٹر علویہ 2015 میں میڈیکل اسکول سے فارغ التحصیل ہوئیں اور امریکی یونیورسٹیوں میں فیلوشپ اور ریزیڈنسی مکمل کی۔ بعد ازاں، جب انہیں براؤن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسرشپ دی گئی، تو انہوں نے H-1B ویزا کے لیے درخواست دی، جو انہیں براؤن میڈیسن کی اسپانسرشپ پر جاری کیا گیا تھا۔
عدالتی حکم اور امریکی حکام کی بے اعتنائی
امریکی ضلع جج لیو سوروکِن نے جمعہ کے روز حکم دیا کہ ڈاکٹر علویہ کو میساچوسٹس سے باہر منتقل نہ کیا جائے اور اگر انہیں کہیں اور لے جانا ہو تو کم از کم 48 گھنٹے قبل عدالت کو اطلاع دی جائے۔
تاہم، بوسٹن گلوب کے مطابق، یہ حکم جاری ہونے سے قبل ہی امیگریشن حکام نے انہیں پیرس روانہ کر دیا تھا۔
براؤن یونیورسٹی کے ترجمان برائن کلارک نے کہا کہ یونیورسٹی اس معاملے کی مزید تفصیلات اکٹھی کر رہی ہے، تاہم،
"ہمیں کسی فرد کی ذاتی معلومات کو عوامی سطح پر شیئر کرنے میں احتیاط برتنی ہوگی۔”

