یمنی مسلح افواج نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین’ کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا
یمنی مسلح افواج نے منگل کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے شمالی بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین’ کو دو کروز میزائلوں اور دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔یمنی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا، "امریکی بحری بیڑے ‘یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین’ کو شمالی بحیرہ احمر میں دو کروز میزائلوں اور دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ایک امریکی تباہ کن جنگی جہاز پر بھی ایک کروز میزائل اور چار ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔
مسلسل حملے اور امریکی بحریہ کی پسپائی
یحییٰ سریع کے مطابق، یہ حملہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تیسری بار کیا گیا، جس کے نتیجے میں امریکی بحریہ میں شدید افراتفری پھیل گئی اور کئی امریکی جنگی جہازوں کو شمالی بحیرہ احمر کی طرف پسپائی اختیار کرنا پڑی۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک بڑے فضائی حملے کی تیاری کی جا رہی تھی، جسے یمنی فورسز نے ناکام بنا دیا۔یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب یمن نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور واضح کر دیا ہے کہ جب تک اسرائیل کی بمباری اور مغربی حملے بند نہیں ہوتے، یمنی حملے جاری رہیں گے۔
یمنی مسلح افواج: امریکہ خطے میں عسکری جارحیت کے نتائج کا مکمل ذمہ دار ہوگا
یمنی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر کو عسکری تصادم کا میدان بنانے اور یمن کے خلاف جارحیت جاری رکھنے کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ یہ جارحیت عالمی بحری تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
یمنی افواج کا انتباہ: جارحیت بند نہ ہوئی تو حملے جاری رہیں گے
یمنی مسلح افواج نے واضح کیا کہ جب تک یمن پر حملے بند نہیں ہوتے، وہ بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں دشمن کے تمام اہداف کو نشانہ بناتی رہیں گی۔ فوج نے مزید کہا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے مزید جارحیت کی تو یمنی فورسز ہر ممکن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
عوامی حمایت اور فلسطینیوں کے لیے یکجہتی
بیان میں یمنی عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جو عبدالملک بدرالدین الحوثی کی قیادت میں "یوم الفرقان” (غزوہ بدر کی سالگرہ) کے موقع پر فلسطینی عوام کی حمایت میں نکلے۔ یمنی مسلح افواج نے کہا کہ یمنی عوام فلسطین کے حق میں اور امریکی جارحیت کے خلاف جہادی جذبے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
"غزہ کی ناکہ بندی جاری رہی تو نئے فوجی آپشنز اپنائیں گے”
ایک اعلیٰ یمنی عہدیدار نے الْمَيَادِين کو بتایا کہ جب تک غزہ تک انسانی امداد نہیں پہنچتی، یمنی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر غزہ کا محاصرہ ختم نہ ہوا تو یمن "نئے فوجی اقدامات” کرے گا۔
"امریکہ کے حملے جاری رہے تو شدید نتائج بھگتنا ہوں گے”
یمنی عہدیدار نے کہا کہ امریکی جارحیت کے تسلسل سے ایسے سنگین فیصلے کیے جا سکتے ہیں جن کے نتائج ابھی ظاہر ہونا باقی ہیں۔
انہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ ان کی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔”

