جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان نے افغان مہاجرین کی ملک بدری مؤخر کرنے کی درخواست مسترد...

پاکستان نے افغان مہاجرین کی ملک بدری مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی
پ

اسلام آباد نے کابل کو واضح طور پر آگاہ کر دیا کہ غیر قانونی مہاجرین کی ملک بدری کا عمل 31 مارچ کے بعد بھی جاری رہے گا۔

اسلام آباد:
پاکستان نے افغان طالبان کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے کہ افغان مہاجرین کے قیام میں مزید توسیع دی جائے۔ کابل کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اسلام آباد اپنے فیصلے پر قائم رہے گا اور تمام غیر قانونی تارکین وطن اور افغان سٹیزن کارڈ (ACC) رکھنے والوں کو یکم اپریل سے بے دخل کر دیا جائے گا۔

ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت، پاکستان نے 7 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ ACC رکھنے والے افراد کو 31 مارچ تک ملک چھوڑنے کا وقت دیا جا رہا ہے، بصورت دیگر انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان میں تقریباً 8 لاکھ افراد ACC ہولڈرز ہیں، تاہم 31 مارچ کے بعد انہیں غیر قانونی تارکین وطن تصور کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس میں قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ پاکستان تمام افغان مہاجرین کو ملک سے نکالنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، تاہم یہ پہلا موقع تھا جب وزارت داخلہ نے باضابطہ طور پر اس فیصلے کی تصدیق کی۔

وزارت کی 7 مارچ کو جاری کردہ سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا:
"غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا پروگرام (IFRP) یکم نومبر 2023 سے نافذ العمل ہے۔ حکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے فیصلے کے تسلسل میں، قومی قیادت نے اب ACC ہولڈرز کی واپسی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔”

اعلامیے میں مزید کہا گیا:
"تمام غیر قانونی غیر ملکیوں اور ACC رکھنے والوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 31 مارچ 2025 سے قبل رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں، بصورت دیگر یکم اپریل 2025 سے ملک بدری کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔”

پاکستان نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے پہلے ہی کافی وقت دیا جا چکا ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے اعلان کے بعد، طالبان حکومت نے سفارتی ذرائع سے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ افغان شہریوں کی ملک بدری نہ کرے اور انہیں مزید وقت دیا جائے۔

سرکاری ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستانی حکومت کا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، تمام متعلقہ حکام اور چاروں صوبوں کو افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے مناسب انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

یکم نومبر 2023 میں شروع کی گئی ملک بدری مہم کے تحت، پاکستان سے اب تک 8 لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجا جا چکا ہے۔ تاہم، پاکستان نے ان افراد کو مستثنیٰ رکھا تھا جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے ساتھ رجسٹرڈ تھے یا جن کے پاس ACC موجود تھا۔

پاکستان میں اس وقت بھی تقریباً 30 لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں۔ افغان حکومت نے حال ہی میں اپنے شہریوں کی جبری ملک بدری پر تشویش کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں ایسا ماحول پیدا کرے جو ان کے شہریوں کی باعزت واپسی کو ممکن بنا سکے۔

یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

پاکستان نے افغانستان پر اپنی سرزمین پر دہشت گرد حملوں میں اضافے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ حالیہ حملوں میں افغان شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بنوں چھاؤنی پر حالیہ دہشت گرد حملے میں بھی افغان باشندے ملوث تھے۔

اس کے علاوہ، 21 فروری سے طورخم بارڈر کراسنگ بند ہے، جہاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہو چکا ہے۔ اسلام آباد نے اس سرحدی بندش کا ذمہ دار افغان حکومت کو ٹھہرایا اور بتایا کہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب افغان حکام نے پاکستانی علاقے میں ایک نئی چیک پوسٹ بنانے کی کوشش کی۔

ذرائع کے مطابق، افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل طورخم بارڈر کے ذریعے بھی مکمل کیا جائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین