جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانچھتوں پر لگے سولر پینلز سے گرڈ کو فروخت ہونے والے یونٹس...

چھتوں پر لگے سولر پینلز سے گرڈ کو فروخت ہونے والے یونٹس پر کوئی ٹیکس نہیں: وفاقی وزیر بجلی
چ

اسلام آباد – وفاقی وزیر برائے بجلی، سردار اویس احمد خان لغاری نے واضح کیا ہے کہ گھریلو اور کمرشل صارفین کی چھتوں پر نصب سولر پینلز سے قومی گرڈ کو فروخت کیے جانے والے یونٹس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ تاہم، گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی پر 18 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جو دیگر صارفین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

بجلی کے نرخوں میں متوقع کمی

وفاقی وزیر نے جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم جلد ہی بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے نظرثانی شدہ معاہدوں کے تحت آئندہ برسوں میں 1400 ارب روپے کی بچت کی ہے، جس کا اثر بجلی کے نرخوں پر بھی پڑے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس اقدام کے باعث سالانہ 400 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے، جو وزیراعظم کے اعلان کردہ بجلی ٹیرف میں نظر آئے گی۔ علاوہ ازیں، پاور سیکٹر میں قرضوں پر شرحِ سود (ڈسکاؤنٹ ریٹ) کو 12 فیصد تک کم کرنے کے اثرات بھی بجلی کی قیمت میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔

نئی سولر پالیسی کے اثرات

سردار اویس لغاری نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کی جانب سے منظور شدہ نئی سولر پالیسی سے متعلق بعض خدشات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ چھتوں پر نصب سولر پینلز سے پیدا کی جانے والی بجلی کا بائی بیک ریٹ 10 روپے فی یونٹ ہی برقرار رہے گا، اور یہ تاثر غلط ہے کہ صارفین کو یہ بجلی 8.88 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرنی ہوگی۔

سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت (پے بیک پیریڈ)

وفاقی وزیر نے مزید وضاحت کی کہ نئی پالیسی کے تحت اگر صارفین 25 فیصد سولر بجلی استعمال کریں اور 75 فیصد بجلی گرڈ سے حاصل کریں، تو ان کی سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت (پے بیک پیریڈ) ساڑھے تین سے چار سال کے درمیان ہوگی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سولر انرجی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور صارفین کے لیے زیادہ سہولتیں متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ قابل تجدید توانائی کے استعمال کو بڑھایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین