نوشکی، بلوچستان – بلوچستان کے ضلع نوشکی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے پر کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خودکش حملے میں 3 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید جبکہ 12 سے زائد زخمی ہوگئے۔
واقعے کی تفصیلات
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ حملہ آج صبح پیش آیا جب کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے نوشکی میں ایف سی کے قافلے کو خودکش حملے اور بارودی مواد سے نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق، حملے کے نتیجے میں 5 افراد شہید ہوگئے، جن میں 3 سیکیورٹی اہلکار اور 2 شہری شامل ہیں۔ شہدا کی شناخت حوالدار منظور علی، حوالدار علی بلاول اور نائیک عبدالرحیم کے طور پر ہوئی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات
نوشکی کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) ظفر اللہ سملانی کے مطابق، ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ جائے وقوعہ سے حاصل کردہ شواہد کے مطابق، ایک خودکش حملہ آور نے بارودی مواد سے بھری گاڑی ایف سی کے قافلے سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 5 اہلکار شہید جبکہ 12 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ایف سی کیمپ اور نوشکی ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دھماکہ پاک ایران شاہراہ (این-40) پر ہوا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
صدر اور وزیراعظم کی مذمت
صدر مملکت آصف علی زرداری نے نوشکی میں ہونے والے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان میں صدر نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر و استقامت کے لیے دعا کی۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی تمنا ظاہر کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں اور شہریوں کے لیے دعا کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بزدلانہ کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف قوم کا عزم متزلزل نہیں ہوگا۔
دیگر حکومتی عہدیداروں کا ردعمل
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے امن سے کھیلنے والوں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، ہر قیمت پر امن قائم کریں گے۔ انہوں نے دشمن عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا درندگی کی انتہا ہے، ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہیں۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا کہ حکومت اس مشکل وقت میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت سوز عمل ہے، دہشت گرد ملک کے دشمن ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
نتیجہ
نوشکی میں ہونے والا یہ خودکش حملہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے، جبکہ حکومتی قیادت نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ آپریشن ردالفساد اور دیگر سیکیورٹی اقدامات کے باوجود، بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات تشویشناک ہیں اور سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

