تحریر: ڈیوڈ بروکس
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں اتحادیوں کو دور دھکیل رہی ہیں، جس سے چین کو موقع مل رہا ہے
بہت سال پہلے، میں نے ایک دوست سے پوچھا، جو ایک سینئر خارجہ پالیسی عہدیدار کے طور پر مقرر ہوا تھا، کہ حکومت میں آ کر اس نے کیا نیا سیکھا جو پہلے نہیں جانتا تھا؟ اس نے جواب دیا: "مجھے پہلے لگتا تھا کہ پالیسی سازی کا 75% تعلقات پر منحصر ہے۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ 95% تعلقات پر مبنی ہے۔”
بڑے کام تنہا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے قابل قیادت اور اقوام مشترکہ اقدار، تاریخ اور اعتماد پر مبنی تعلقات استوار کرتی ہیں۔ وہ بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد بناتی ہیں، جن میں سب سے بڑا یہ ہے کہ آیا 21ویں صدی چین کی ہوگی یا امریکہ کی؟
اس مقابلے میں چین کو کئی برتریاں حاصل ہیں، لیکن حالیہ عرصے تک امریکہ کے پاس سب سے فیصلہ کن برتری تھی— ہمارے پاس دنیا بھر میں زیادہ دوست موجود تھے۔ بدقسمتی سے، پچھلے ڈیڑھ ماہ میں، امریکہ نے ان میں سے کئی تعلقات ٹکڑوں میں توڑ دیے ہیں۔
ٹرمپ کی بے حسی اور عالمی سطح پر امریکہ کی بدنامی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ اگر آپ لوگوں کو دھوکہ دیں یا ان سے غلط برتاؤ کریں تو وہ آپ سے نفرت کرنے لگیں گے۔ پچھلے چند ہفتوں میں، یورپی اقوام حیرانی اور صدمے سے گزرتے ہوئے اب بیزاری اور نفرت تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ وقت ان کے لیے ویسا ہی ثابت ہوا جیسا 9/11 امریکہ کے لیے تھا— وہم و گمان کے پردے ہٹ گئے، اور ایک وجودی خطرہ آشکار ہو گیا۔ یورپی اقوام نے یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ جس امریکہ کو وہ دوست سمجھتے تھے، وہ دراصل ایک سرکش عالمی طاقت بن چکا ہے۔
کینیڈا اور میکسیکو میں اب امریکہ کو مخالف سمجھ کر مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ آنے والے برسوں میں، میرا اندازہ ہے کہ ٹرمپ چین کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیں گے، اور تائیوان کے ساتھ وہی کریں گے جو وہ پہلے ہی یوکرین کے ساتھ کر چکے ہیں— "چھوٹے فریق کو دھوکہ دینا تاکہ بڑے فریق کو خوش کیا جا سکے۔” اس کے نتیجے میں ایشیائی ممالک بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے جس پر یورپ پہلے ہی پہنچ چکا ہے: "امریکہ ایک غدار ملک ہے۔”
یہ مسئلہ صرف ٹرمپ تک محدود نہیں۔ امریکہ کی مجموعی ساکھ بھی تباہ ہو چکی ہے۔ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ 2029 میں خود ابراہام لنکن بھی صدر بن جائیں، کوئی بھی غیر ملکی رہنما ایسے ملک پر اعتماد نہیں کر سکتا جو ہر چار سال بعد ایک اور آمرانہ اور تباہ کن قیادت کو منتخب کر سکتا ہے۔
کیا ہونے والا ہے؟
- نیٹو کا خاتمہ:
جو بائیڈن نے چار سال عالمی لبرل نظام کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن یہ نظام مخصوص تاریخی پس منظر کا نتیجہ تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکہ کی علیحدگی پسندی نے دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیوں کو جنم دیا، جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعاون نے 80 سالہ سپر پاور امن فراہم کیا۔ مگر نئی نسلیں اس بیانیے کو یوں سنتی ہیں جیسے یہ قرون وسطیٰ کی کوئی کہانی ہو۔ پرانا عالمی نظام بحال نہیں ہو سکتا؛ اب ہمیں ایک نئے عالمی ڈھانچے پر غور کرنا ہوگا۔ - "مغرب” کا خاتمہ (عارضی طور پر):
مغرب صدیوں سے ایک فکری تحریک رہا ہے— سقراط کی سچائی کی تلاش، ریمبرانت کی ہمدردی، جان لاک کی روشن خیالی، فرانسس بیکن کا سائنسی طریقہ کار۔ امریکہ نے خود کو ہمیشہ مغربی ورثے کا تسلسل سمجھا، لیکن ٹرمپ کے ذہن میں "مغرب” کی کوئی جگہ نہیں۔ وہ امریکہ کو اس کے فکری اور روحانی جڑوں سے کاٹ رہے ہیں۔ - نئی عالمی کشمکش: سخت اور نرم کے درمیان جنگ:
ٹرمپ کی پالیسی پیچیدہ حکمت عملی نہیں بلکہ ان کے ذاتی رحجانات کا نتیجہ ہے۔ ان کے نزدیک "طاقتور” شخصیات قابل قدر ہیں، جبکہ سفارت کاری اور اتحاد "کمزور” سمجھے جاتے ہیں۔ میگا (MAGA) مائنڈسیٹ میں پیوٹن مضبوط لگتے ہیں، جبکہ مغربی یورپ کمزور۔ ایلون مسک مضبوط، جبکہ یو ایس ایڈ (USAID) کمزور۔ ریسلنگ مضبوط، جبکہ یونیورسٹیاں کمزور۔ - یورپ یا تو دوبارہ اٹھے گا یا محض ایک عجائب گھر بن کر رہ جائے گا:
کچھ لوگوں کے مطابق، یورپ کم شرح پیدائش، کم اختراعات اور سست معاشی ترقی کے باعث محض ایک سیاحتی مقام بن جائے گا۔ لیکن شاید یہ لمحہ یورپ کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہو۔ جرمنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے، اور اٹلی کے سابق وزیرِ اعظم ماریو دراگی نے متنبہ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں اختراع کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرنی ہوں گی۔ - جوہری پھیلاؤ کی نئی لہر:
جیسے جیسے امریکہ اپنی حفاظتی چھتری سمیٹ رہا ہے، دنیا بھر کے ممالک، بشمول پولینڈ اور جاپان، یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ انہیں جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ یہ صورتِ حال کتنی خطرناک ہو سکتی ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ - چین اس خلا کو پُر کرے گا:
امریکہ اپنے دوستوں کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ چین انہیں اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے یورپی امور کے خصوصی نمائندے نے حال ہی میں کہا:
"یورپی اقوام کو ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل کا موازنہ چینی حکومت کی پالیسیوں سے کرنا چاہیے۔ اس سے انہیں واضح ہو جائے گا کہ چین کی سفارت کاری امن، دوستی اور باہمی فائدے پر مبنی ہے۔”
یورپی اقوام شاید فوری طور پر چین کی طرف نہ جھکیں، لیکن جب انہیں دو عالمی طاقتوں— چین اور امریکہ— میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، تو وہ دونوں طرف کا کھیل کھیلنے پر مجبور ہوں گے۔
- عالمی ثقافتی جنگ:
مغربی یورپ اور امریکی ترقی پسند طبقات انفرادی آزادی اور مابعد جدیدیت کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ باقی دنیا زیادہ روایتی اور اجتماعی نظریات کی حامل ہے۔ یہی نظریاتی فرق آخرکار عالمی سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا۔ - امریکہ کی عظمت کی واپسی:
تاریخ جامد نہیں۔ امریکہ ہمیشہ الگ تھلگ رہنے اور عالمی قیادت کے مابین جھولتا رہا ہے۔ ہم فی الحال انفرادیت، مایوسی اور علیحدگی کے ایک انتہا پر ہیں، لیکن جلد یا بدیر اس کے خلاف ردعمل ضرور آئے گا۔ جب وہ لمحہ آئے گا، تو لوگ ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی کو سمجھیں گے— "مختصر مدتی فائدے کے لیے اپنے اتحادیوں کو دھوکہ دینا درحقیقت امریکہ کی طویل مدتی طاقت کو کمزور کرتا ہے۔”

