ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ ترین صورتحال، خاص طور پر واشنگٹن کی یمن کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں کی گئی "مجرمانہ” جارحیت پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کے روز ایک وفد کی قیادت میں مختصر دورے پر مسقط پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے عمانی ہم منصب سید بدر حمد البوسعیدی سے ملاقات کی۔یہ دورہ ایک روز بعد ہوا جب امریکی اور برطانوی جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت شمالی صوبہ صعدہ، وسطی صوبہ البیضاء اور جنوب مغربی صوبہ ذمار کے مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔یمنی وزارت صحت کے مطابق، ان حملوں میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 101 زخمی ہوئے۔
یمن کا امریکی حملوں کا "پیشہ ورانہ اور تکلیف دہ” جواب دینے کا عزم
یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے اسرائیل کی حمایت میں ملک کے خلاف امریکی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مجرمانہ نظام کو "تکلیف دہ” انداز میں سزا دینے کا عہد کیا ہے۔یہ بڑے پیمانے پر فضائی حملے ہفتہ کے روز شروع ہوئے اور اتوار کی صبح تک جاری رہے۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب یمنی مسلح افواج نے اسرائیل کے غزہ محاصرے کے خلاف بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھیاتوار کو یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ براہ راست محاذ آرائی میں ناکام ہو چکا ہے۔ کونسل نے مزید کہا کہ یہ حملے یمنیوں کو غزہ کی حمایت سے نہیں روکیں گے بلکہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ کریں گے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ سید بدر حمد البوسعیدی نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔دونوں اعلیٰ سفارت کاروں نے سفارتی حل کو فروغ دینے کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات اور پرامن ذرائع کے استعمال پر زور دیا۔
عمانی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب کے ساتھ "مفید” مشاورت کی تعریف
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر "مفید” مشاورت کا ذکر کیا۔انہوں نے لکھا، "عمان مذاکرات اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کے لیے پرعزم ہے جو ہماری اقوام اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیتے ہیں۔

