نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے، جس میں اس کا خالص خسارہ 318 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
مجموعی مالی صورتحال:
📌 مجموعی خسارہ: 18 کھرب 20 ارب روپے
📌 مجموعی قرضہ: 31 کھرب روپے
📌 سالانہ آمدن: 54 ارب 15 کروڑ روپے
بڑھتے ہوئے خسارے کی بنیادی وجوہات:
🔹 کمزور مالیاتی نظم و نسق – اخراجات اور آمدن میں شدید فرق
🔹 قرضوں کا بوجھ – NHA پر بھاری قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ
🔹 ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر – انفراسٹرکچر منصوبے مکمل نہ ہونے سے متوقع آمدنی متاثر
🔹 ٹول ٹیکس اور محصولات کی ناکافی وصولی – کرپشن اور انتظامی نااہلی
🔹 قدرتی آفات اور سڑکوں کی مرمت کے اخراجات
ممکنہ حل اور تجاویز:
✅ ٹول ٹیکس کلیکشن کو ڈیجیٹل اور شفاف بنانا – کرپشن اور لیکیجز کو روکنے کے لیے سخت مانیٹرنگ
✅ نجی شعبے سے شراکت داری (PPP) – سڑکوں اور موٹرویز کی دیکھ بھال کے لیے سرمایہ کاری حاصل کرنا
✅ قرضوں کی تنظیم نو – مالیاتی دباؤ کم کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی بنانا
✅ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل – غیر ضروری تاخیر کو روک کر آمدنی بڑھانا
اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو NHA کا یہ مالی بحران نہ صرف نئے منصوبوں کو متاثر کرے گا بلکہ پہلے سے جاری شاہراہوں کی دیکھ بھال میں بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، جس سے ملکی معیشت اور سفری سہولیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے مالیاتی بحران پر نظر
وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی رپورٹ کے مطابق، این ایچ اے کو سنگین مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
اہم مالیاتی اعداد و شمار:
📌 NHA کے کل اثاثے: 58 کھرب روپے (گزشتہ دو سالوں میں کمی)
- 2022: 59 کھرب روپے
- 2023: 58 کھرب 40 ارب روپے
- 2024: 58 کھرب روپے
📌 خالص خسارہ: 318.03 ارب روپے (گزشتہ سال کے 413 ارب روپے سے 23 فیصد کم)
📌 2022 کے مقابلے میں خسارہ تقریباً دوگنا ہو چکا ہے
وفاقی وزیر کی وضاحت:
✅ این ایچ اے کو سرکاری ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت مخصوص مارک اپ پر سالانہ ترقیاتی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
✅ غیر نقد اخراجات میں شامل عوامل:
- PSDP اور غیر ملکی قرضوں پر مالیاتی بوجھ
- زرِ مبادلہ کے نقصانات
- کرنسی کی قدر میں کمی
🔹 وزیر مواصلات کا مؤقف:
"این ایچ اے کو درحقیقت مالی نقصان نہیں ہو رہا کیونکہ خسارے کی بڑی وجہ غیر نقد اخراجات ہیں۔”
اصل خدشات:
🚨 اگرچہ حکومتی وضاحت موجود ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ:
- این ایچ اے کا خالص خسارہ بدستور بہت زیادہ ہے اور قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
- ادارے کے اثاثے مسلسل کم ہو رہے ہیں، جو تشویشناک ہے۔
- PSDP پر ضرورت سے زیادہ انحصار این ایچ اے کی مالی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
قرضوں کا بحران اور حکومتی ذمہ داریاں
وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (CMU) کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو شدید مالی مسائل کا سامنا ہے، جو بڑھتے ہوئے قرضوں اور پیچیدہ اکاؤنٹنگ مسائل کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
اہم مالیاتی چیلنجز
📌 قرضوں کا حجم: 31 کھرب روپے (سالانہ 300 ارب روپے کا اضافہ)
📌 سالانہ سود کی ادائیگی: 98 ارب روپے (متوقع اضافہ: 150 ارب روپے سالانہ)
📌 کل اثاثے: 58 کھرب 89 ارب روپے
📌 کل واجبات: 29 کھرب روپے
📌 کل آمدنی: 74.007 ارب روپے
📌 کل اخراجات: 242.57 ارب روپے
📌 اثاثوں کی قدر میں کمی: 52 کھرب روپے سے زائد
حکومتی مالی استحکام پر اثرات
🚨 قرضوں کی حکومتی ضمانت سے کریڈٹ رسک میں اضافہ
🚨 خودمختار گارنٹی کے باعث مزید مالی دباؤ
🚨 لیکویڈیٹی بحران کی صورت میں حکومتی مالی استحکام کو خطرہ
وزارت خزانہ کے مطابق:
🔹 این ایچ اے کی محدود آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت حکومت پر مزید مالی دباؤ ڈال رہی ہے۔
🔹 PSDP اور حکومتی امداد کے بغیر قرضوں کی ادائیگی ناممکن ہو سکتی ہے۔
بنیادی مالی خطرات
1️⃣ کریڈٹ رسک:
- قرضوں اور سود کی ادائیگیوں میں اضافے سے حکومتی مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
- 31 کھرب روپے کے قرضوں اور 150 ارب روپے سے زائد سود کی سالانہ ذمہ داری حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
2️⃣ مارکیٹ رسک:
- افراط زر اور تعمیراتی مواد (سیمنٹ، اسٹیل، ایندھن) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے NHA کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے خطرے سے دوچار ہیں۔
- طویل مدتی منصوبوں کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ افراط زر کی ایڈجسٹمنٹ بجٹ میں شامل نہیں ہوتی۔
3️⃣ آپریشنل رسک:
- بڑھتے ہوئے خسارے اور حکومتی امداد پر انحصار سے این ایچ اے کی مالی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔
- کمزور مالیاتی نظم و نسق اور غیر مؤثر حکمت عملیوں کی وجہ سے قرضوں کی بروقت ادائیگی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
ممکنہ حل اور سفارشات
✅ آمدنی بڑھانے کے لیے نئے ماڈلز اپنانا
✅ ٹول ٹیکس اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فیس میں اضافہ
✅ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈلز کو مؤثر بنانا
✅ قرضوں کے انتظام کے لیے سخت مالیاتی اصلاحات متعارف کروانا
✅ غیر ضروری اخراجات کم کرکے مالی خودمختاری کی بحالی

