پشاور/خار: بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں ہفتہ کی علی الصبح چھ پولیس اسٹیشنوں اور چوکیوں پر حملے کیے گئے۔ حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ پولیس اہلکار الرٹ تھے اور مقامی لوگوں کی مدد سے تمام حملے پسپا کر دیے گئے۔یہ حملے لکی مروت اور بنوں اضلاع میں چار پولیس اسٹیشنوں، بکا خیل، غوریوالہ، پیزو اور ڈڈیوالہ پر کیے گئے۔ اس کے علاوہ دو چوکیوں، عباسی خٹک اور کھوجری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ تمام حملے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات چند گھنٹوں کے اندر ہوئے۔حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب بنوں میں بکا خیل پولیس اسٹیشن پر فائرنگ کی گئی۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔حکام کے مطابق، اس کے بعد دہشت گردوں نے غوریوالہ پولیس اسٹیشن پر دستی بموں سے حملہ کیا۔ جبکہ کھوجری پولیس چوکی پر بھی ایک دستی بم پھینکا گیا، جس سے اس کی دیوار کو جزوی نقصان پہنچا۔ مسلح مقامی افراد بھی پولیس کی مدد کے لیے گھروں سے نکل آئے، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ صبح کے وقت لکی مروت میں عباسی خٹک پولیس چوکی پر حملہ کیا گیا، تاہم الرٹ پولیس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ حملے کے بعد لکی مروت اور قریبی ضلع کرک سے پولیس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں کے فرار کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا، جس دوران پولیس کی ایک گشتی گاڑی کو دیسی ساختہ بم (IED) سے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے سے گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
مزید کچھ علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم پولیس اہلکار محفوظ رہے۔رمضان کے آغاز سے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ایک سرکاری اہلکار کے مطابق، انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ذوالفقار حامد نے لکی مروت، بنوں اور ٹانک کے پولیس اہلکاروں کی بہادری کو سراہا اور کہا کہ ان اضلاع کی پولیس نے جرات و بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ آئی جی پی نے ان حملوں کو ناکام بنانے والے تمام پولیس اہلکاروں کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا۔
دریں اثناء، نامعلوم حملہ آوروں نے باجوڑ ضلع کے عنایت کلی بازار میں لوہی سم پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ ہفتہ کو افطار سے قبل پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے اچانک پولیس افسر کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر خار اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
زخمیوں کی شناخت پولیس کانسٹیبل کفایت اللہ، ابو ہریرہ (ولد سید زمان، سکنہ عنایت کلی)، حاجی گل بادشاہ (سکنہ شندئی موڑ) اور حذیفہ (ولد افتخار، سکنہ بھائی چینہ) کے نام سے ہوئی ہے۔

