ٹرمپ انتظامیہ اپنے دوسرے صدارتی دور کے آغاز میں امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت 41 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کے نفاذ پر غور کر رہی ہے۔
تجویز کردہ فہرست کے مطابق ان ممالک کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے گروپ میں شامل 10 ممالک، جن میں افغانستان، ایران، شام، کیوبا اور شمالی کوریا شامل ہیں، کو مکمل ویزا معطلی کا سامنا ہوگا۔
دوسرے گروپ میں شامل اریٹیریا، ہیٹی، لاؤس، میانمار اور جنوبی سوڈان پر جزوی پابندیاں عائد کی جائیں گی، جو سیاحتی اور طلبہ ویزوں سمیت دیگر امیگریشن ویزوں پر اثر انداز ہوں گی، تاہم کچھ استثنیٰ حاصل ہوگا۔
تیسرے گروپ میں 26 ممالک شامل ہیں، جن میں پاکستان، بیلاروس اور ترکمانستان نمایاں ہیں۔ یادداشت کے مطابق، اگر ان ممالک کی حکومتوں نے 60 دن کے اندر اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش نہ کی تو ان پر امریکی ویزا اجرا کی جزوی معطلی لاگو ہو سکتی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے کہا کہ اس فہرست میں تبدیلی ممکن ہے اور یہ اب تک ٹرمپ انتظامیہ، بشمول وزیر خارجہ مارکو روبیو، کی جانب سے باضابطہ طور پر منظور نہیں کی گئی۔
قبل ازیں جنوری میں، ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں قومی سلامتی کے خدشات کے تحت امریکہ میں داخلے کے خواہشمند غیر ملکیوں کے لیے سیکیورٹی جانچ پڑتال کو مزید سخت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اس حکم کے تحت متعدد کابینہ ارکان کو 21 مارچ تک ایسے ممالک کی فہرست پیش کرنے کا پابند کیا گیا تھا، جن سے سفر کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کے ویزا جانچ اور اسکریننگ کے نظام میں سنگین خامیاں پائی جاتی ہیں۔
اکتوبر 2023 کی ایک تقریر میں، ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور "کسی بھی ایسی جگہ سے” افراد کے داخلے پر پابندی لگائیں گے جہاں سے امریکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ اقدام ٹرمپ کے پہلے دور میں سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر عائد سفری پابندی کی یاد دلاتا ہے، جو کئی ترامیم کے بعد بالآخر 2018 میں امریکی سپریم کورٹ سے منظوری حاصل کر چکا تھا۔
ایران نے اس وقت اس پابندی کو "غیر قانونی، غیر انسانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران جوابی اقدامات کرے گا۔
اسلامی جمہوریہ نے اس قانون کو امریکی انسانی حقوق کے حقیقی چہرے کے طور پر دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے والا اقدام قرار دیا تھا۔

