جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستاناستغاثہ کیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، سائفر کیس...

استغاثہ کیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، سائفر کیس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری
ا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سزا کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس عامر فاروق اور سابق جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے 3 جون 2024 کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے مختصر فیصلہ جاری کیا تھا۔تفصیلی فیصلہ 24 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں واضح کیا گیا کہ استغاثہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے کا ٹرائل غیر ضروری جلد بازی میں مکمل کیا گیا، ملزمان کے وکلا کی جانب سے التوا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سرکاری وکیل تعینات کیا گیا، جسے تیاری کے لیے صرف ایک دن دیا گیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری وکیل کی جرح سے ان کی ناتجربہ کاری اور وقت کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجنے کے قابل ہے، تاہم عدالت اس کو میرٹ پر سن رہی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے اہم نکات

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر جرح کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی استغاثہ کے شواہد کیس ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ استغاثہ مکمل طور پر اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سائفر کیس کا پس منظر

یہ کیس ایک سفارتی دستاویز سے متعلق تھا جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی۔ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ اس سائفر میں امریکا کی جانب سے عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

ایف آئی آر اور قانونی کارروائی

ایف آئی اے کی جانب سے درج کی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شاہ محمود قریشی کو نامزد کیا گیا تھا۔ مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 5 (معلومات کا غلط استعمال) اور 9 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 34 کے تحت درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق، 7 مارچ 2022 کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو واشنگٹن سے ایک سفارتی سائفر موصول ہوا تھا، جبکہ 5 اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی ونگ میں یہ مقدمہ درج کیا گیا۔

الزامات

مقدمے میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور ان کے معاونین پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے سائفر کے حقائق کو توڑ مروڑ کر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور ذاتی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ:

  • سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے معاونین خفیہ کلاسیفائیڈ دستاویز کی معلومات غیر مجاز افراد کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
  • عمران خان نے 28 مارچ 2022 کو بنی گالا میں ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا تاکہ سائفر کے مندرجات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سازش تیار کی جا سکے۔
  • اس اجلاس میں، عمران خان نے مبینہ طور پر اپنے پرنسپل سیکریٹری محمد اعظم خان کو ہدایت دی کہ وہ سائفر کے متن کو اپنے ذاتی مفاد میں تبدیل کرتے ہوئے اجلاس کے منٹس تیار کریں۔
  • الزام لگایا گیا کہ وزیراعظم آفس کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی عمران خان نے جان بوجھ کر اپنے پاس رکھی اور وزارت خارجہ کو واپس نہیں کی۔

عدالتی فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق، استغاثہ کیس ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مقدمے کی سماعت غیر ضروری جلد بازی میں کی گئی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

سائفر کیس کے مزید قانونی نکات

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ سائفر، جو کہ ایک کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویز ہے، تاحال غیر قانونی طور پر عمران خان کے قبضے میں ہے۔ الزام عائد کیا گیا کہ نامزد شخص (عمران خان) کی جانب سے سائفر ٹیلی گرام کا غیرمجاز حصول اور غلط استعمال نہ صرف ریاست کے سائفر سیکیورٹی نظام کو متاثر کر چکا ہے بلکہ بیرون ملک موجود پاکستانی مشنز کی خفیہ پیغام رسانی کا طریقہ کار بھی کمپرومائز ہو چکا ہے۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزم کے اقدامات کے باعث بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچا اور اس کے نتیجے میں ریاستِ پاکستان کو نقصان ہوا۔

قانونی کارروائی اور مقدمے کی نوعیت

ایف آئی اے میں درج مقدمے کے مطابق، مجاز اتھارٹی نے مقدمے کے اندراج کی منظوری دی، جس کے بعد ایف آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی ونگ، اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 5 اور 9 کے تحت، ساتھ ہی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 34 کے تحت سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

الزامات اور ملزمان کی فہرست

  • عمران خان: سائفر ٹیلی گرام (آفیشل خفیہ دستاویز) کا مبینہ غیرقانونی حصول اور بدنیتی کے تحت غلط استعمال۔
  • شاہ محمود قریشی: سرکاری خفیہ معلومات کے غلط استعمال میں شراکت۔
  • اعظم خان (بطور پرنسپل سیکریٹری): ان کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جانا تھا۔
  • اسد عمر (سابق وفاقی وزیر) اور دیگر معاونین: مقدمے میں ان کے کردار کی جانچ تفتیش کے دوران کی جانی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ یہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین