اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گرڈ صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے نیٹ میٹرنگ قوانین میں ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے تحت سولر صارفین سے بجلی 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر بحری امور قیصر احمد شیخ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سمیت متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں گرڈ صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے نیٹ میٹرنگ قوانین میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ گزشتہ ہفتے حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کیا تھا کہ سولر نیٹ میٹرنگ ٹیرف کو 26 روپے سے کم کر کے 10 روپے فی یونٹ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے بجلی کی خریداری کے قومی اوسط نرخ (نیپ) میں ترمیم کرتے ہوئے بائی بیک ریٹ 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی منظوری دی۔ تاہم، یہ نظرِ ثانی شدہ ریٹ ان صارفین پر لاگو نہیں ہوگا، جن کے پاس 2015 کے نیٹ میٹرنگ قوانین کے تحت درست لائسنس یا معاہدہ موجود ہے۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کابینہ کی منظوری سے نیپرا کو وقتاً فوقتاً بائی بیک ریٹ پر نظرثانی کا اختیار دیا جائے گا تاکہ نرخوں کو مارکیٹ کے حالات کے مطابق رکھا جا سکے۔
یہ فیصلہ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس کے باعث گرڈ صارفین پر پڑنے والے مالی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے ریگولیٹری ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اعلامیے کے مطابق، نئے اور پرانے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بجلی کی خرید و فروخت اور بلنگ کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، اور ان کے لیے علیحدہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔مزید کہا گیا کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے نتیجے میں گرڈ سے منسلک صارفین پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے، اور دسمبر 2024 تک نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد 2 لاکھ 83 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق، گزشتہ سال نیٹ میٹرنگ صارفین کو 159 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، اور اگر اس نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مالی بوجھ 2034 تک 4,240 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ 80 فیصد سولر نیٹ میٹرنگ صارفین ملک کے 9 بڑے شہروں اور پوش علاقوں میں مقیم ہیں۔

