بیروت، 13 مارچ (رائٹرز) – قطر اردن کے ذریعے شام کو گیس فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ملک میں محدود بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے اور شام کے نئے حکمرانوں کو تقویت دی جا سکے، تین باخبر ذرائع کے مطابق۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس اقدام کو واشنگٹن کی منظوری حاصل ہے۔یہ قطر کی جانب سے دمشق میں نئی حکومت کے لیے سب سے اہم اور عملی حمایت ہوگی۔ قطر، جو خطے میں سابق صدر بشار الاسد کا شدید مخالف اور انہیں ہٹانے والے باغیوں کا سب سے بڑا حامی رہا ہے، اب ان کے بعد اقتدار میں آنے والوں کی حمایت کر رہا ہے۔ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ گیس معاہدے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی منظوری حاصل تھی، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ یہ منظوری کس طرح دی گئی۔بعد ازاں، قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ قطر کے ترقیاتی فنڈ اور اردن کی توانائی کی وزارت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت اردن کے ذریعے دمشق کو "منظور شدہ قدرتی گیس کی فراہمی” کی جائے گی تاکہ شام میں بجلی کی قلت کا حل نکالا جا سکے۔ تاہم، اس بیان میں نہ تو شام کے نئے حکمرانوں اور نہ ہی واشنگٹن کا کوئی ذکر کیا گیا۔قطر کے ترقیاتی فنڈ نے رائٹرز کو ایک ای میل میں بتایا کہ وہ اردن کی توانائی کی وزارت کو ایک گرانٹ فراہم کرے گا تاکہ شام کو گیس کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔اردن کے وزیر توانائی صالح الخرابشہ نے اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اس منصوبے کی مکمل مالی معاونت قطر کے فنڈ کی جانب سے کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گیس کو اردن کی بحیرہ احمر کی بندرگاہ عقبہ میں وصول کیا جائے گا اور عرب گیس پائپ لائن کے ذریعے شام منتقل کیا جائے گا۔ اس پائپ لائن کا ایک حصہ عقبہ سے شمال کی طرف اردن کے راستے شام تک جاتا ہے۔امریکہ کی جانب سے اس معاہدے کی منظوری اور شامی حکومت اور شمالی شام میں کرد فورسز کے درمیان معاہدے کے لیے کی جانے والی امریکی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن اب بھی شام میں سرگرم ہے، اگرچہ وہ یورپی ممالک کے مقابلے میں زیادہ محتاط انداز میں پابندیاں نرم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق، گیس اردن سے ایک پائپ لائن کے ذریعے جنوبی شام میں دیر علی پاور پلانٹ تک منتقل کی جائے گی۔یہ اقدام ابتدائی طور پر دیر علی پاور پلانٹ کی پیداوار میں روزانہ 400 میگاواٹ کا اضافہ کرے گا، جو کہ "تدریجی طور پر بڑھے گا”، قطر کے فنڈ کے بیان کے مطابق۔شام کی حالیہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تخمینہ تقریباً 4,000 میگاواٹ تک لگایا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ اور قطر کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
اردن سے بجلی کی فراہمی
شام شدید بجلی کی قلت کا شکار ہے، جہاں زیادہ تر علاقوں میں ریاستی بجلی صرف دو سے تین گھنٹے روزانہ دستیاب ہوتی ہے۔ بجلی کے گرڈ کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنا یا فراہم کرنا مسئلے کا صرف ایک حصہ ہے۔دمشق پہلے بجلی پیدا کرنے کے لیے زیادہ تر تیل ایران سے حاصل کرتا تھا، لیکن دسمبر میں اسلام پسند تنظیم حیات تحریر الشام کی قیادت میں ایران نواز سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد یہ سپلائی منقطع ہو گئیعبوری حکومت نے بجلی کی فراہمی میں تیزی سے اضافہ کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس میں جزوی طور پر اردن سے بجلی درآمد کرنا اور تیرتے ہوئے بجلی گھروں (فلوٹنگ پاور بارجز) کا استعمال شامل ہے، جو ابھی تک نہیں پہنچے ہیںدو مزید باخبر ذرائع کے مطابق، اردن کو امریکہ کی منظوری مل گئی ہے کہ وہ غیر مصروف اوقات (نان-پیک آورز) میں شام کو 250 میگاواٹ تک بجلی فراہم کرے۔تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کو ابھی بھی اپنی بجلی کے گرڈ میں ضروری مرمت اور دیگر تکنیکی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ یہ سپلائی، جو غیر مصروف اوقات میں 250 میگاواٹ کے قریب متوقع ہے، شروع ہو سکےسابق اردنی وزیر توانائی و معدنی وسائل ابراہیم سیف نے کہا، "شام کا داخلی نیٹ ورک ابھی اس بجلی کو وصول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسے بڑے پیمانے پر کام کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، معاہدے کی مالی اعانت سے متعلق کچھ امور ابھی تک واضح نہیں ہیں۔امریکی اور اردنی حکام نے اس منصوبے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
نامعلوم چھوٹ (ویور) کی صورتحال
قطری گیس منصوبے سے متعلق آگاہ ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ یہ اقدام دوحہ کی جانب سے سعودی عرب اور قطر سمیت خلیجی عرب ممالک کی سیاسی حمایت کے بعد عملی مدد فراہم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے، تاکہ شام کے نئے حکمرانوں کو سہارا دیا جا سکے۔وہ بالآخر کچھ دینے کے خواہشمند ہیں، چاہے اس کا زیادہ بڑا اثر نہ بھی ہو، سفارت کار نے کہا۔تاہم، امریکی پابندیوں کے باعث خلیجی ممالک کی حمایت عملی امداد میں تبدیل نہیں ہو سکی،باوجود اس کے کہ جنوری میں ایک استثنیٰ (ویور) جاری کیا گیا تھا، جس میں توانائی سمیت کچھ لین دین کی اجازت دی گئی تھی۔لیکن یہ استثنیٰ پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں کرتا، اور شام کے ساتھ معاملات کرنے والے ممالک اور ادارے اضافی ضمانتیں طلب کر رہے ہیں۔رائٹرز نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ قطر شام کے نئے حکمرانوں کو عوامی شعبے کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے سے رُکا ہوا ہے، کیونکہ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فنڈنگ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گی یا نہیں۔

