پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مالیاتی مذاکرات
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، جن میں ملک کی مالیاتی اور توانائی پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومتِ پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ کمی کی تجویز پیش کی، تاہم آئی ایم ایف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے سخت شرائط
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی قیمت میں 23 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پہلے ہی کیپٹو پاور پلانٹس پر گیس پر لیوی عائد کر چکی ہے، اور آئی ایم ایف نے مذاکرات کے دوران ہی اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کروا دیا۔ اس فیصلے کے تحت کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی نئی قیمت 4,291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کر دی گئی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق نئی مالی شرائط
ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کے قرضے کی نئی شرط بھی سامنے آئی ہے، جس کے تحت حکومت کو کاربن لیوی عائد کرنا ہوگی۔ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی نافذ کرنے کی تجویز دی ہے، جس کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
مزید مذاکرات متوقع
پالیسی سطح کے مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے، اور مزید مالیاتی و توانائی پالیسیوں پر بات چیت متوقع ہے۔ حکومتِ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی کے لیے کوششیں کر رہی ہے، تاہم آئی ایم ایف کا سخت مؤقف برقرار ہے۔

