پولیس کارروائی اور گرفتاری
فیصل آباد میں سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) صاحبزادہ بلال عمر کی ہدایت پر سمن آباد تھانے میں منشیات اسمگلنگ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایس پی اقبال ٹاؤن ڈویژن عابد ظفر نے سمن آباد تھانے پر چھاپہ مارا، جس دوران اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) امتیاز احمد کی الماری اور دیگر اہلکاروں کے کمروں سے منشیات برآمد کی گئیں۔ تلاشی کے دوران اہلکاروں کے بیگز میں چھپائی گئی مزید منشیات بھی ضبط کی گئی، جس کے بعد تھانے کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔
مقدمہ اور قانونی کارروائی
ایس ایچ او امتیاز احمد، سب انسپکٹر محمد طیب، کانسٹیبل شاہد شوکت، اور ایس ایچ او کے نجی ملازم محمد اختر کو گرفتار کر لیا گیا۔ فیکٹری ایریا پولیس کے ایس ایچ او رانا عطاالرحمٰن کی مدعیت میں ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ 1997 کی دفعات 9-3 سی اور 9-5 ڈی، اور پولیس آرڈر کی دفعہ 155-سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مذکورہ اہلکاروں نے دو نامعلوم منشیات فروشوں کو رہا کیا تھا، جو بعد میں فرار ہو گئے۔ چھاپے کے دوران ان کے قبضے سے 4 کلوگرام سے زائد افیون اور 2 کلوگرام سے زائد چرس برآمد کی گئی، جسے وہ مبینہ طور پر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
تحقیقات اور انکشافات
ذرائع کے مطابق، اس کارروائی کا آغاز اینٹی نارکوٹکس فورس کی ایک علیحدہ کارروائی سے ہوا، جس میں جھنگ روڈ پر رشید آباد کے علاقے سے کانسٹیبل سہیل احمد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ سمن آباد کے ایس ایچ او اور اس کے تین ساتھی منشیات فروشوں کو رہا کرنے میں ملوث تھے۔ اس معلومات پر سی پی او صاحبزادہ بلال عمر نے فوری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتار کروا دیا۔
فیصل آباد میں انسانی اسمگلرز کی گرفتاری
ایف آئی اے کی کارروائی
فیصل آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ٹیم نے سرگودھا اور سیالکوٹ سے دو انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز کو گرفتار کر لیا، جن کے نام 2023 میں لیبیا میں کشتی الٹنے کے واقعے کے تناظر میں ریڈ بک میں درج کیے گئے تھے۔
ملزمان اور الزامات
ایف آئی اے حکام کے مطابق، گرفتار ہونے والے ملزمان عطا اللہ اور سعید عثمان کو فیصل آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق، عطا اللہ نے مبینہ طور پر 45 لاکھ روپے وصول کر کے دو افراد کو لیبیا سے کشتی کے ذریعے اٹلی بھجوایا تھا، جن میں سے ایک حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔ اسی طرح، سعید عثمان نے 26 لاکھ روپے لے کر ایک شخص کو اسی راستے پر بھیجا تھا، جو تاحال لاپتہ ہے۔
ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ اس کیس میں شامل دو دیگر مشتبہ افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

