جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان-اومان اقتصادی شراکت: وسطی ایشیا تک تجارتی روابط کے فروغ کے لیے...

پاکستان-اومان اقتصادی شراکت: وسطی ایشیا تک تجارتی روابط کے فروغ کے لیے بندرگاہی تعاون
پ

تعارف

پاکستان اور اومان کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اسلام آباد نے مسقط کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں کے استعمال کی پیشکش کی ہے۔ یہ اقدام وسطی ایشیا کی ابھرتی ہوئی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پیشکش مسقط میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کی گئی، جہاں پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال اور ان کے عمانی ہم منصب قیس الیوسف نے باہمی اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، اور تجارتی راستوں کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

اقتصادی تعاون اور تجارتی مواقع

اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان نے اومان کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے لیے گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے استفادے کی تجویز دی، جس سے اومان کو ابھرتی ہوئی منڈیوں تک مؤثر رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ پاکستانی وفد نے ان بندرگاہوں کو علاقائی تجارت کے اہم مراکز کے طور پر اجاگر کیا، جو اومان کے لیے نئی تجارتی راہیں کھول سکتے ہیں۔

اس ملاقات میں ٹیکسٹائل، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs)، زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے تجارت نے صنعتی ترقی، مشترکہ منصوبوں اور زرعی تجارت کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا اور پائیدار سپلائی چین کو یقینی بنانے کے لیے قریبی شراکت داری پر اتفاق کیا۔

سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری

وزیر تجارت جام کمال نے پاکستان کی صنعتی مہارت، مسابقتی کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اومان کو پاکستان میں صنعتی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اومان پاکستان کی صنعتی و تجارتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے ویژن 2040 کے تحت معیشت کے تنوع کے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔

عمانی وزیر تجارت قیس الیوسف نے پاکستان کی اسٹریٹجک حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات اور جغرافیائی قربت پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک مؤثر تجارتی راہداری بناتی ہے۔ انہوں نے اومان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مستحکم کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

نتیجہ اور آئندہ حکمت عملی

اجلاس کا اختتام دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، باہمی ترقی کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے اور سرمایہ کاری و تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں اقتصادی اقدامات کو مشترکہ طور پر عملی جامہ پہنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں شریک وفود:
عمانی وفد میں صالح سعید میسان، ابتسام احمد الفاروگی، راشد سعید راشدی، خالد علی الحبسی اور صہیب امیر الصوفی شامل تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں سفیر سید نوید صفدر بخاری، عشرت بھٹی اور طلحہ خان نے شرکت کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین