جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانبولان آپریشن: 33 دہشت گرد ہلاک، 346 یرغمالی بازیاب، 21 شہری اور...

بولان آپریشن: 33 دہشت گرد ہلاک، 346 یرغمالی بازیاب، 21 شہری اور 4 ایف سی اہلکار شہید
ب

کراچی – پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس کے یرغمالی مسافر بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے ہیں اور تمام 33 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ کلیئرنس آپریشن کے دوران کسی بھی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم، آپریشن سے قبل دہشت گردوں کی بربریت کے نتیجے میں 21 مسافر شہید ہو گئے جبکہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 4 جوان بھی شہید ہوئے۔

آپریشن میں پاک فوج، ایئر فورس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے جوانوں نے حصہ لیا۔ مشترکہ کارروائی کے دوران سب سے پہلے خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد یرغمالیوں کو مرحلہ وار بحفاظت رہا کروایا گیا۔ دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا اور خودکش بمباروں کو مسافروں کے درمیان بٹھایا گیا تھا، جنہیں ماہر نشانہ بازوں نے نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔

بھارتی میڈیا کا گمراہ کن پروپیگنڈا

واقعے کے بعد بھارتی میڈیا نے گمراہ کن رپورٹنگ شروع کر دی، جس میں پرانی تصاویر، ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد نشر کیا گیا۔ یہ صورتحال دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے باہمی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایسے موقع پر کچھ مخصوص سیاسی عناصر بھی سرگرم ہو جاتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کے اس خوفناک واقعے کا بے بنیاد جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملے میں 27 آف ڈیوٹی اور 1 آن ڈیوٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 30 گھنٹوں کے بعد تمام 346 یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کروا لیا گیا۔

افغانستان میں موجود دہشت گرد قیادت کا ملوث ہونا

آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ حملہ افغانستان میں موجود ایک دہشت گرد سرغنہ کے احکامات پر کیا گیا، جو کارروائی کے دوران حملہ آوروں سے مسلسل رابطے میں تھا۔ پاک فوج نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

وزیراعظم اور دیگر رہنماؤں کا ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف نے شہریوں کی بازیابی پر پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوج کی متحرک قیادت کے باعث جعفر ایکسپریس آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا۔ وزیراعظم نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں انہیں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی آپریشن کی کامیابی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا بیان

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور ملک ایک بڑے سانحے سے بچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا، تاہم کچھ سیاسی عناصر نے اس واقعے کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے جعفر ایکسپریس کے واقعے پر منفی پروپیگنڈا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس معاملے پر ایک ہی مؤقف اپنایا، جو قابل مذمت ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ آپریشن کے دوران کسی بھی یرغمالی کی شہادت نہ ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

آپریشن کی تفصیلات

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 11 مارچ کو تقریباً ایک بجے دہشت گردوں نے بولان کے علاقے اوسی پور میں ریلوے ٹریک کو دھماکے سے تباہ کیا۔ اس وقت جعفر ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی، جس میں 440 مسافر سوار تھے۔

یہ علاقہ انتہائی دشوار گزار تھا، جہاں دہشت گردوں نے پہلے یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یرغمالیوں کو مرحلہ وار بحفاظت رہا کروایا گیا۔ اس دوران دہشت گرد سیٹلائٹ فون کے ذریعے افغانستان میں موجود اپنے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں سے مسلسل رابطے میں تھے۔

منگل کے روز تقریباً 100 یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا، جبکہ دہشت گرد مسلسل مسافروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے، جس کی وجہ سے آپریشن انتہائی احتیاط سے کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، کلیئرنس آپریشن سے پہلے دہشت گردوں کی بربریت کے نتیجے میں 21 مسافر شہید ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ، ریلوے پکٹ پر تعینات 3 ایف سی جوان شہید ہوئے، جبکہ آپریشن کے دوران ایف سی کا ایک اور جوان بھی شہید ہو گیا۔

جنرل احمد شریف نے تصدیق کی کہ آپریشن کے دوران تمام دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ تاہم، علاقے کی مزید کلیئرنس اور جانچ پڑتال کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کام کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو مغوی مسافر آپریشن کے دوران قریبی علاقوں میں بھاگ گئے تھے، انہیں بھی بحفاظت اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پاکستان کے معصوم شہریوں کو سڑکوں، ٹرینوں، بسوں یا بازاروں میں دہشت گردی کا نشانہ بنائے۔ ایسے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا کا کردار

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ویڈیو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کیا تھا، جہاں ان کے ساتھ خودکش بمبار بھی موجود تھے، یہی وجہ تھی کہ آپریشن کے دوران غیرمعمولی احتیاط برتی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی واقعہ پیش آیا، بھارتی میڈیا نے چند منٹوں کے اندر گمراہ کن رپورٹنگ شروع کر دی۔ بھارتی میڈیا نے پرانی تصاویر، پرانی فوٹیجز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز نشر کیں، جو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہیں۔

جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو بیرونی مدد حاصل ہے، بالکل اسی طرح جیسے کلبھوشن یادیو کے معاملے میں دیکھا گیا تھا، جو بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی کچھ مخصوص سیاسی عناصر ایسے مواقع پر ریاستی بیانیے کی مخالفت کرتے ہیں اور دہشت گردی جیسے سنگین معاملات پر سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

نتیجہ

جعفر ایکسپریس کے واقعے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ دہشت گرد کسی بھی طرح اسلام، پاکستان یا بلوچستان کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ سکیورٹی فورسز ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھیں گی تاکہ پاکستان کے معصوم شہری محفوظ رہ سکیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین