جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فائرنگ سے مزید 7 فلسطینی شہید، مجموعی شہداء کی تعداد 48,515 ہوگئی
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مزید سات فلسطینی شہید ہوگئے، جس سے اسرائیل کی تباہ کن جنگ کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 48,515 تک جا پہنچی ہے۔وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں پانچ وہ افراد بھی شامل ہیں جن کی لاشیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملبے تلے سے نکالی گئی ہیں۔ مزید 14 زخمی فلسطینیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 111,941 تک پہنچ گئی ہے۔وزارت نے مزید کہا کہ اب بھی کئی متاثرین ملبے تلے اور سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ امدادی کارکنوں کو ان تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اگرچہ 19 جنوری سے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نافذ ہے، لیکن مقامی حکام کے مطابق، اسرائیلی فوج کی جانب سے روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔اسرائیل نے معاہدے کی شرائط کے مطابق غزہ میں بےگھر فلسطینیوں کے لیے پناہ گاہیں، خیمے اور عارضی رہائش کے لیے کاروان داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔گزشتہ دس دنوں کے دوران، تل ابیب نے تمام سرحدی گزرگاہیں بند کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں غزہ میں ہنگامی انسانی امداد کی ترسیل مکمل طور پر رک گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے غزہ کے واحد ڈیسیلینیشن پلانٹ کی بجلی کاٹ دی ہے، جس کے باعث فلسطینی پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی مظالم کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کی ایک سازش ہے تاکہ وہ جنگ بندی کے معاہدے میں اسرائیلی شرائط کو تسلیم کریں۔

