افغانستان میں جنوری 2025 کے دوران شدید سانس کی بیماریوں میں 54.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے میں 2 لاکھ 6 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، جن میں سے 506 جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم، خسرہ اور کووڈ-19 کے کیسز میں کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، شدید سانس کی بیماریاں ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بنی ہوئی ہیں، اور جنوری میں کیس فیٹیلٹی ریٹ 0.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ماحولیاتی عوامل، خاص طور پر ناقص معیار کے ایندھن کا استعمال، سانس کے مسائل اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق، آلودہ ہوا کے اثرات سے بچنے کے لیے گرم لباس پہننا، ماسک کا استعمال، گرم مشروبات کا زیادہ استعمال، اور بیماری کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔
ملک کے بڑے اسپتالوں میں روزانہ درجنوں بچے سانس کی بیماریوں کے باعث داخل کیے جا رہے ہیں، جو صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

