یونیسف کی عہدیدار روزالیا بولن نے کہا کہ نومبر 2024 میں پینے کے پانی تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے والے 6 لاکھ افراد ایک بار پھر اس سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے گزشتہ روز خبردار کیا کہ غزہ میں پانی کی شدید قلت انتہائی سنگین سطح پر پہنچ چکی ہے، اور 10 میں سے 9 افراد کو صاف پانی میسر نہیں۔یونیسف کی غزہ میں موجود نمائندہ روزالیا بولن نے کہا کہ ہزاروں خاندانوں اور بچوں کے لیے پانی کی فراہمی بحال کرنا بے حد ضروری ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ 18 لاکھ افراد، جن میں نصف سے زیادہ بچے ہیں، فوری طور پر پانی، نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کے محتاج ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے غزہ کی بجلی منقطع کرنے کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ضروری ڈی سیلینیشن (نمک سے پاک کرنے) کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوگئی اور پینے کے صاف پانی کا بحران مزید سنگین ہو گیا۔دوسری جانب، فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزی نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے نسل کشی کی وارننگ قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا:
"نسل کشی کی وارننگ! اسرائیل کا غزہ کی بجلی منقطع کرنا، مطلب ڈی سیلینیشن اسٹیشنز کی بندش، نتیجتاً: کوئی صاف پانی نہیں۔”

