جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیچین کا جنگلاتی رقبہ 25 فیصد سے تجاوز کر گیا، عالمی سبز...

چین کا جنگلاتی رقبہ 25 فیصد سے تجاوز کر گیا، عالمی سبز توسیع میں پیش پیش
چ

چین میں جنگلاتی رقبہ 25 فیصد سے تجاوز کر گیا، عالمی سبز توسیع میں قیادت

12 مارچ 1979 کو قومی شجرکاری دن کے پہلے اجرا کے بعد سے، چین نے جنگلات کی افزائش اور ماحولیاتی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، خاص طور پر حالیہ برسوں میں، جس سے اس کے سبز ترقی اور ماحولیاتی استحکام کے عزم کو تقویت ملی ہے۔”شفاف پانی اور سرسبز پہاڑ قیمتی اثاثے ہیں” کے تصور سے لے کر "ڈوئل کاربن” اہداف کے تعین تک، ان کوششوں نے چین کے جنگلاتی رقبے میں اضافہ کیا اور ماحولیاتی لچک کو بہتر بنایا، جو عالمی ماحولیاتی تحفظ میں ملک کی قیادت کو ظاہر کرتا ہے۔

2024 میں جنگلاتی رقبے میں تاریخی اضافہ

چین نے 2024 میں 4.45 ملین ہیکٹر درخت لگائے، جس سے ملک میں جنگلاتی رقبہ 25 فیصد سے تجاوز کر گیا، جبکہ جنگلات کا مجموعی ذخیرہ 20 ارب مکعب میٹر سے زیادہ ہو گیا۔ مجموعی طور پر، چین نے 773 ملین ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر شجرکاری کی ہے، جو دنیا میں سب سے بڑی سبز توسیع ہے۔ملک بھر میں 87.2 فیصد دنوں میں ہوا کا معیار اچھا رہا، جبکہ 90.4 فیصد سطحی پانی کے حصے معیاری پائے گئے۔ مزید برآں، 3.22 ملین ہیکٹر چراگاہوں کو بحال کیا گیا اور 2.78 ملین ہیکٹر بنجر اور پتھریلی زمین کو قابل کاشت بنایا گیا۔

صحرا کے خلاف سبز دیوار

شمال مغربی چین کے سنکیانگ میں واقع تکلامکان صحرا کو 3,000 کلومیٹر لمبی "سبز دیوار” نے گھیر رکھا ہے۔ 1978 میں شروع ہونے والا تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام، جو دنیا کی سب سے بڑی شجرکاری مہم ہے، شمال مغربی، شمالی اور شمال مشرقی چین میں صحرا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے اس منصوبے میں 32 ارب یوان (تقریباً 4.4 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کی ہے، جس کے تحت 287 ماحولیاتی منصوبے اور 58 نرسری بیسز بنائی گئی ہیں۔ 2023 میں اس منصوبے کے تحت 3.8 ملین ہیکٹر زمین کی بحالی کی گئی۔

شہری اور دیہی علاقوں میں ماحولیاتی بہتری

علاقائی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر شجرکاری اور ماحولیاتی منصوبے کامیاب رہے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں بیجنگ-تیانجن-ہیبی خطے میں ماحولیاتی بحالی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

  • بیجنگ نے 13,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر شجرکاری کی
  • تیانجن نے 300 ہیکٹر
  • ہیبی صوبہ نے 425,000 ہیکٹر

ان منصوبوں نے گرد و غبار کے طوفانوں کو کم کرنے، ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور حیاتیاتی تنوع کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔2024 میں، چین نے 5 ملین ہیکٹر سے زائد زمین کی ماحولیاتی تحفظ اور بحالی مکمل کی۔ بیجنگ، تیانجن کے ننگھے ضلع اور دیگر سات چینی شہروں کو COP16 میں "حیاتیاتی تنوع کے دلکش شہر” کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

کاربن کمی اور جنگلاتی شہروں میں اضافہ

2023 تک، چین کی سالانہ کاربن سنک 1.2 بلین ٹن سے تجاوز کر گئی، اور 200 سے زائد شہروں کو "قومی جنگلاتی شہر” کا درجہ دیا گیا۔ دیہی علاقوں میں بھی سبزہ کاری میں تیزی آئی، جہاں گاؤں کی ہریالی کا تناسب 32 فیصد سے تجاوز کر گیا۔یہ کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ چین کس طرح شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کی افزائش اور سبز ترقی کو ترجیح دے رہا ہے، جو نہ صرف ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی پائیدار ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔چین کی شجرکاری کی حکمت عملی میں ارتقا ہوا ہے، جو محض جنگلاتی رقبہ بڑھانے سے آگے بڑھ کر سائنسی تحقیق کی بنیاد پر درختوں کی اقسام کے بہتر انتخاب پر مرکوز ہے۔ اس طریقہ کار سے شجرکاری کی کوششیں مقامی آب و ہوا اور مٹی کے حالات کے مطابق ڈھالی جاتی ہیں، جس سے جنگلات کی پائیداری اور ماحولیاتی استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ حیاتیاتی تنوع کو ترجیح دے کر، چین نے جنگلات کے معیار میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے، جو کاربن جذب کرنے، مٹی کے کٹاؤ کو روکنے اور آبی وسائل کے تحفظ میں مدد فراہم کرتا ہے۔

دنیا بھر میں شجرکاری کا دن مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ جاپان میں، "گرینری ڈے” 4 مئی کو عوامی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، جو قدرتی حسن کی قدردانی اور ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دیتا ہے۔ جبکہ امریکہ میں، ہر ریاست اپنے لیے "آربر ڈے” کی ایک مخصوص تاریخ مقرر کرتی ہے۔ یہ عالمی تقریبات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ درخت ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مختلف اقوام کے درمیان سرسبز مستقبل کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔چین کی مسلسل شجرکاری کوششیں نہ صرف اس کے اپنے ماحول کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ عالمی ماحولیاتی تحفظ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ 2025 کی حکومتی ورک رپورٹ کے مطابق، چین "بیوٹیفل چائنا” پائلٹ زونز کے قیام کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ عوام کی بہتر ماحولیاتی توقعات کو پورا کیا جا سکے اور ایک پائیدار مستقبل کی تعمیر کی جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین