جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانپاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق دنیا میں سب سے زیادہ: آئی...

پاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق دنیا میں سب سے زیادہ: آئی ایل او رپورٹ
پ

پاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق دنیا میں سب سے زیادہ: آئی ایل او رپورٹ

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تنخواہوں میں صنفی فرق (Gender Pay Gap – GPG) سب سے زیادہ ہے۔ زیادہ تر شعبوں میں خواتین کی آمدنی مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس سے مزدوری کی سطح پر صنفی عدم مساوات کی سنگین صورتحال ظاہر ہوتی ہے۔

پاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق خطے میں سب سے زیادہ: آئی ایل او رپورٹ

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تنخواہوں میں صنفی فرق (Gender Pay Gap – GPG) خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

صنفی امتیاز کی واضح نشاندہی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مردوں اور خواتین کی تنخواہوں میں فرق کی بڑی وجہ مہارت، تعلیم یا لیبر مارکیٹ کی خصوصیات نہیں، بلکہ ایک "غیر واضح عنصر” ہے، جو درحقیقت صنفی امتیاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کا موازنہ

  • پاکستان: فی گھنٹہ اجرت کی بنیاد پر صنفی فرق 25% اور ماہانہ تنخواہ کی بنیاد پر 30% ہے۔ یعنی خواتین مردوں کے مقابلے میں 1000 روپے کے بدلے صرف 700 سے 750 روپے کماتی ہیں۔
  • سری لنکا: جی پی جی 22%
  • نیپال: جی پی جی 18%
  • بنگلہ دیش: حیران کن طور پر، یہاں جی پی جی منفی 5% ہے، یعنی خواتین کی اوسط تنخواہ مردوں سے زیادہ ہے۔

ماہرین کی رائے اور ممکنہ حل

معاشی ماہرین اور حقوقِ نسواں کے کارکنوں نے اس رپورٹ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مساوی تنخواہوں کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ،

  • خواتین کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا
  • کام کی جگہوں پر صنفی امتیاز ختم کرنا
  • خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا

یہ اقدامات صنفی فرق کو کم کرنے اور لیبر مارکیٹ میں برابری کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق اب بھی زیادہ، لیکن بہتری کے آثار: آئی ایل او رپورٹ

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں صنفی تنخواہ کا فرق (Gender Pay Gap – GPG) اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

صنفی تنخواہ کے فرق میں کمی

رپورٹ کے مطابق، 2018 میں پاکستان کا جی پی جی 33% تھا، جو اب کم ہو کر ماہانہ اجرت کے لحاظ سے 30% اور فی گھنٹہ اجرت کے لحاظ سے 25% تک آ گیا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں صنفی تنخواہ کے فرق میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

مختلف شعبوں میں جی پی جی کی صورتحال

  • رسمی شعبہ: یہاں جی پی جی تقریباً صفر ہے، جس کا مطلب ہے کہ جہاں لیبر قوانین سختی سے نافذ ہوتے ہیں، وہاں مردوں اور خواتین کی تنخواہوں میں نمایاں فرق نہیں پایا جاتا۔
  • غیر رسمی اور گھریلو شعبے: ان شعبوں میں جی پی جی 40% سے زیادہ ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جہاں ریگولیٹری نگرانی کمزور ہے، وہاں اجرت میں شدید عدم مساوات موجود ہے۔
  • سرکاری شعبہ: یہاں بھی صنفی فرق نسبتاً کم ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سخت لیبر قوانین اجرت میں برابری کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

قوانین اور عالمی اصول

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جی پی جی صنفی عدم مساوات کی ایک اہم پیمائش ہے، اور بیشتر حکومتوں نے اس فرق کو کم کرنے کے لیے قوانین نافذ کیے ہیں۔

آئی ایل او کا "مساوی معاوضہ کنونشن 1951” (کنونشن نمبر 100) دنیا میں سب سے زیادہ توثیق شدہ معاہدوں میں سے ایک ہے، جو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کو مساوی کام کے لیے مساوی اجرت دی جائے۔

آگے کا راستہ

ماہرین کے مطابق، پاکستان میں لیبر قوانین کے سخت نفاذ اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے لیے تحفظات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ،

  • تنخواہوں میں شفافیت لانے
  • خواتین کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے
  • مساوی تنخواہوں کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے

یہ اقدامات پاکستان میں صنفی تنخواہ کے فرق کو مزید کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین