جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانجرگے کو افغان فریق کے مثبت اشارے، پاک افغان طورخم سرحد جلد...

جرگے کو افغان فریق کے مثبت اشارے، پاک افغان طورخم سرحد جلد کھلنے کا امکان
ج

21 فروری سے بند طورخم بارڈر کراسنگ کے جلد دوبارہ کھلنے کی توقع ہے، کیونکہ منگل کے روز پاکستانی سیکیورٹی حکام نے قبائلی عمائدین سے ملاقات کے دوران بتایا کہ افغان فریق کی جانب سے کچھ "مثبت اشارے” موصول ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق، جرگے کا اجلاس رات گئے منعقد ہوا، جس میں پاک-افغان طورخم بارڈر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب افغان جرگے نے کابل اور جلال آباد میں حکام سے ملاقاتیں کیں۔مذاکرات سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ وہ افغان جرگے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جس میں قبائلی عمائدین اور تاجر شامل ہیں۔واضح رہے کہ 21 فروری کو پاکستانی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب تعمیراتی سرگرمیوں پر اختلافات پیدا ہونے کے بعد طورخم بارڈر کراسنگ کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت اچانک معطل کر دی گئی تھی۔رواں ماہ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب پاکستان اور افغان طالبان کی افواج کے درمیان سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں 6 فوجیوں سمیت 8 افراد زخمی ہو گئے۔

اس دوران، توپ خانے کی گولہ باری سے متعدد مکانات، ایک مسجد اور کلیئرنگ ایجنٹس کے کچھ دفاتر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سرحد پار فائرنگ کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا۔اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے سرحد کے دونوں جانب قبائلی عمائدین بات چیت میں مصروف رہے۔ذرائع کے مطابق، دونوں فریق اپنی اگلی ملاقات کی تاریخ اور وقت طے کرنے کے لیے رابطے میں ہیں، جسے وہ فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔ 21 فروری کو سرحد کی بندش کے بعد پاکستان اور افغانستان کے وفود نے اتوار کے روز پہلی بار ملاقات کی تھی۔پاکستانی جرگے کے ارکان نے افغان ہم منصبوں کو آگاہ کیا کہ سرحد صرف اسی صورت میں کھولی جائے گی جب دونوں فریق سرحد کے موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے متعلق طے شدہ پروٹوکول اور معاہدوں کی مکمل پاسداری کریں گے۔افغان فریق کو واضح طور پر بتایا گیا کہ پاکستان سرحد پار کسی بھی غیرمجاز تعمیراتی یا تزئین و آرائش کی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا، کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سرحد کے زیرو پوائنٹ کے قریب کوئی اضافی ڈھانچہ تعمیر نہیں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، ملاقات اور بعد ازاں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران افغان فریق کا رویہ اور ردعمل مثبت رہا۔

اس کے بعد سے افغان سرحدی فورسز نے متنازع چیک پوسٹ، جسے افغان فریق زنگالی پوسٹا کے نام سے پکارتا ہے، کی تزئین و آرائش یا تعمیر نو سے گریز کیا ہے۔طورخم میں کسٹم حکام کے مطابق، سرحد کی بندش کے باعث روزانہ تقریباً 15 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، کیونکہ افغانستان کو برآمدات معطل ہیں۔ اس کے علاوہ، افغانستان سے درآمدات کی معطلی کی وجہ سے اب تک 54 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔دریں اثنا، طورخم کے دوستی ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے روزانہ 70 سے 80 مریض علاج کے لیے پاکستان آتے ہیں، جو درست ویزے پر طبی معائنے کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تجارت اور سرحد پار پیدل آمدورفت جلد بحال ہونے کی توقع ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین