جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیحماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے بجلی منقطع...

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے بجلی منقطع کر رکھی ہے
ح

فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے ہی غزہ کی پٹی کی بجلی منقطع کر دی ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے انادولو کو دیے گئے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کو بجلی کی فراہمی "فوری طور پر” روکنے کا فیصلہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

قاسم نے کہا، "اسرائیل نے عملی طور پر جنگ کے آغاز سے ہی غزہ کی پٹی کی بجلی کاٹ دی تھی۔ یہ قابض ریاست کی بھوک اور محاصرے کی پالیسی کا ایک اور حصہ ہے، جو تمام بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔” انہوں نے گزشتہ ہفتے ہونے والے عرب سربراہی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا، جس میں غزہ کے محاصرے اور اس کے عوام کو بھوکا رکھنے کی مخالفت کی گئی تھی۔

اس سے قبل، اتوار کے روز، اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اطلاع دی کہ وزیر توانائی و بنیادی ڈھانچہ ایلی کوہن نے غزہ کی پٹی کو بجلی کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، کوہن کے اس حکم کے بعد غزہ میں مکمل بجلی بند ہونے کا امکان ہے۔

غزہ کے رہائشی متعدد انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں پانی کی شدید قلت بھی شامل ہے، جو اسرائیل کی جانب سے پانی اور ایندھن کی سپلائی روکنے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ قابض ریاست نے اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی کے دوران پانی کے وسائل اور کنوؤں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

جمعہ کے روز اسرائیلی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی سیاسی قیادت نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کرے، جب کہ جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اس موقف کو اپنا کر، اسرائیل اس حقیقت کو نظرانداز کر رہا ہے کہ وہی وہ فریق ہے جس نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے سے گریز کیا، جبکہ حماس معاہدے کی تمام شرائط پر قائم رہی ہے۔ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ گزشتہ اتوار کو مکمل ہوا تھا۔

حماس بارہا اس معاہدے پر اپنے عزم کا اعادہ کر چکی ہے۔ اس نے ثالثوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع کریں، جس میں اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا اور جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین