قطری وزیرِاعظم محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو قطر تین دن کے اندر پانی سے محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قطر اس وقت تک ہار نہیں مانے گا جب تک کہ ایران اور امریکہ کے درمیان "سفارتی حل” تلاش نہ کر لیا جائے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق، قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، "قطر کسی بھی قسم کے فوجی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔ ہم اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی حل نہ نکل آئے۔ ہمیں معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔” قطر کے الجزیرہ چینل نے ان کے یہ الفاظ نقل کیے۔
ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ "امن معاہدے” کی امید ظاہر کی۔
امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک ٹیلیویژن انٹرویو میں آل ثانی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہر ملک ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے حوالے سے فکرمند ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اور ہمیں اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں… خطے کے مفاد میں یہی ہے کہ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے جائیں۔”
آل ثانی نے مزید کہا کہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں حالیہ برسوں میں "نمایاں پیشرفت” ہوئی ہے، اگرچہ ایران کی بعض خارجہ پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں، لیکن ان اختلافات نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو متاثر نہیں کیا۔
جمعہ کے روز، امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے لیے "دلچسپ دن” آنے والے ہیں، کیونکہ وہ تہران کے ساتھ یا تو ایک نیا جوہری معاہدہ کرنا چاہتے ہیں یا پھر "دوسرا راستہ” اختیار کرنا چاہتے ہیں، جس کا اشارہ ممکنہ فوجی کارروائی کی جانب تھا۔
اس کے برعکس، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ "جب تک امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی جاری رہے گی، ہم امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔”

