اقوام متحدہ، 10 مارچ – ایران کے جوہری مواد میں اضافے پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے پیش نظر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بدھ کے روز ایک خفیہ اجلاس منعقد کرے گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ اجلاس ایران کے اس یورینیم کے ذخیرے میں اضافے پر غور کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے جو ہتھیاروں کے درجے کے قریب افزودہ کیا جا چکا ہے۔
یہ اجلاس کونسل کے 15 میں سے چھ رکن ممالک – امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جنوبی کوریا، اور پاناما – کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ ان ممالک کا اصرار ہے کہ ایران کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہوگا اور ان مقامات کے بارے میں وضاحت فراہم کرنی ہوگی جہاں غیر اعلانیہ جوہری مواد دریافت ہوا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس اجلاس پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
اگرچہ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم IAEA نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی میں تیزی آئی ہے، جو کہ 90 فیصد کے اس درجے کے قریب ہے جو جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار ہوتا ہے۔
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی سول جوہری پروگرام میں یورینیم کو اتنے زیادہ درجے تک افزودہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور تاریخ میں ایسا کوئی ملک نہیں جس نے اس حد تک افزودگی کی ہو اور پھر جوہری ہتھیار تیار نہ کیے ہوں۔ دوسری جانب، ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ایران نے 2015 میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، امریکا، روس، اور چین کے ساتھ مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (JCPOA) کے تحت ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم کر دی گئیں، اور اس کے جوہری پروگرام کو محدود کر دیا گیا۔ تاہم، 2018 میں، ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا، جس کے بعد ایران نے بتدریج اپنے جوہری وعدوں سے انحراف شروع کر دیا۔
اب برطانیہ، فرانس، اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو وہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ نافذ (snap back) کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
یہ موقع صرف 18 اکتوبر 2025 تک دستیاب ہوگا، کیونکہ اس کے بعد 2015 کی اقوام متحدہ کی قرارداد کی میعاد ختم ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے پہلے ہی اپنی اقوام متحدہ کی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران پر دوبارہ بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

