جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی فورسز نے فروری میں 762 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا، جن...

اسرائیلی فورسز نے فروری میں 762 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا، جن میں 90 بچے شامل
ا

اسرائیلی قابض فوج نے فروری میں 762 فلسطینی گرفتار کر لیے، جن میں 90 بچے اور 19 خواتین شامل

اسرائیلی قابض فوج (IOF) نے فروری کے مہینے میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے 762 فلسطینیوں کو گرفتار کیا، جن میں 90 بچے اور 19 خواتین شامل ہیں۔ جنین اور اس کے مہاجر کیمپ میں سب سے زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جہاں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری فوجی آپریشن کے دوران متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔یہ تفصیلات فلسطینی اسیران و سابق اسیران کمیشن، فلسطینی اسیر کلب، اور عدالہ اسیر سپورٹ و ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "قابض فوج نے مغربی کنارے میں گرفتاری کی مہم جاری رکھی، جس کے نتیجے میں فروری کے دوران 762 فلسطینی گرفتار کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ گرفتاریاں جنین اور اس کے مہاجر کیمپ میں ہوئیںرپورٹ کے مطابق، "گرفتار شدگان میں 90 بچے اور 19 خواتین شامل ہیں، جبکہ سینکڑوں فلسطینیوں کو گزشتہ ماہ دورانِ تفتیش نشانہ بنایا گیا۔مزید برآں، رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے، جو 21 جنوری کو شمالی مغربی کنارے میں شروع ہوئی، قابض فوج نے 300 فلسطینیوں کو جنین اور اس کے مہاجر کیمپ سے، جبکہ 200 کو طولکرم اور اس کے مہاجر کیمپوں سے گرفتار کیا ہے۔49 دنوں سے قابض فوج جنین اور اس کے مہاجر کیمپ میں مسلسل فوجی کارروائیاں کر رہی ہے، جبکہ طولکرم مہاجر کیمپ میں 43 دنوں اور نور شمس مہاجر کیمپ میں 30 دنوں سے فوجی آپریشن جاری ہے۔

بیان میں مزید انکشاف

بیان میں مزید بتایا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں گرفتار کیے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 15,640 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 490 خواتین شامل ہیں۔اس تعداد میں وہ خواتین شامل نہیں جو غزہ سے گرفتار کی گئی ہیں، جن کی تعداد درجنوں میں بتائی جا رہی ہے۔

اجتماعی گرفتاریوں کی حکمت عملی

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان وسیع پیمانے پر کی جانے والی گرفتاریوں کا مقصد حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد کو متوازن کرنا ہے۔فروری میں 1,377 فلسطینی قیدیوں کو ایک معاہدے کے تحت رہا کیا گیا، لیکن ساتھ ہی اسرائیل نے مغربی کنارے میں گرفتاریوں میں شدت پیدا کر دی، تاکہ زیرِ حراست فلسطینیوں کی تعداد برقرار رہے اور آئندہ مذاکرات میں سودے بازی کے لیے دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔تاریخی طور پر، اسرائیل اجتماعی گرفتاریوں کو ایک کنٹرول کے آلے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، خاص طور پر قیدیوں کے تبادلے کے بعد، تاکہ مذاکرات کے دوران دی گئی رعایتوں سے فلسطینی قیدیوں کی مجموعی تعداد میں کوئی کمی نہ ہو۔جنگ بندی کے بعد حراست میں لیے جانے والے سینکڑوں نئے قیدیوں کی وجہ سے عملی طور پر وہی تعداد بحال ہو گئی ہے جو قیدیوں کے تبادلے میں رہا کی گئی تھی۔

مغربی کنارے میں بڑھتا ہوا تشدد

غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے، اسرائیلی قابض افواج (IOF) اور آباد کاروں نے مغربی کنارے، بشمول مقبوضہ القدس میں حملے تیز کر دیے ہیں۔ فلسطینی سرکاری ذرائع کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً 930 فلسطینی شہید اور 7,000 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 سے، امریکہ کی حمایت کے ساتھ، اسرائیل نے غزہ میں اجتماعی قتلِ عام جاری رکھا ہوا ہے، جس میں اب تک 160,000 سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ 14,000 سے زائد افراد لاپتا ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیل چکی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین