جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیشامی وزارت دفاع کا ساحلی علاقے میں 'فوجی آپریشن' ختم کرنے کا...

شامی وزارت دفاع کا ساحلی علاقے میں ‘فوجی آپریشن’ ختم کرنے کا اعلان
ش

شامی وزارت دفاع کا ساحلی علاقے میں فوجی آپریشن ختم کرنے کا اعلان

شامی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ساحلی علاقے میں "فوجی آپریشن” مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد سرکاری ادارے دوبارہ اپنے معمول کے کام انجام دینے لگے ہیں۔ وزارت کے مطابق، اس آپریشن کے دوران "سابقہ ​​حکومت کے سیکیورٹی سیلز اور ارکان” کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، خاص طور پر طرطوس اور لاذقیہ میں۔وزارت دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ واقعات کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ مبینہ طور پر ہونے والے واقعات کی تصدیق کی جا سکے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔وزارت کے بیان میں سابقہ ​​حکومت کے "باقیات” اور ان کے حامیوں کو متنبہ کیا گیا کہ "اگر تم واپس آؤ گے، تو ہم بھی واپس آئیں گے، اور ہم پیچھے نہیں ہٹیں گےبرطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق (Syrian Observatory for Human Rights) کے مطابق، اتوار تک 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 700 عام شہری شامل ہیں، اور زیادہ تر ہلاکتیں سرکاری فورسز کے ہاتھوں ہوئیں۔شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق (Syrian Network for Human Rights) نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے تقریباً 125 عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

اس تشدد کے باعث خاص طور پر علوی اکثریتی ساحلی صوبوں، لاذقیہ اور طرطوس، میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ شامی رصدگاہ کے مطابق، ہفتے کے روز بنیاس میں کم از کم 60 شہری مارے گئے، جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔

قتل عام کے بعد محتاط سکون طاری، اقوام متحدہ کا دورہ جاری

مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شامی ساحلی علاقے میں کئی دنوں تک جاری رہنے والی ہلاکتوں کے بعد صورتحال آہستہ آہستہ پُرسکون ہو رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کا مشن شہر جبیلہ سے اپنا دورہ شروع کر چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق، "لاذقیہ کے دیہی علاقوں میں کئی مقامات پر محتاط سکون پایا جا رہا ہے، خاص طور پر غیر ملکی جنگجوؤں کے ان علاقوں سے انخلا کے بعد۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے رہائشی اب بھی ویرانوں اور جنگلات میں بھٹک رہے ہیں، کیونکہ وہ قتل عام کے بعد اپنے گھروں کو لوٹنے سے خوفزدہ ہیں۔مقامی رپورٹوں کے مطابق، روس کے حمیمیم ایئربیس پر پناہ لینے والے مہاجرین انخلاء سے انکار کر رہے ہیں اور بین الاقوامی تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں مسلح گروہوں کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے، جن میں سے کچھ کا تعلق جنرل سیکیورٹی سے ہے۔اتوار کے روز شام کے عبوری صدر، احمد الشراع نے زور دیا کہ آج شام کو درپیش خطرات محض عارضی نہیں بلکہ ایسے سوچی سمجھی سازشیں ہیں جو ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔الشراع کا کہنا تھا کہ "پچھلی حکومت نے ایسے گہرے زخم چھوڑے ہیں جنہیں بھرنا آسان نہیں ہوگا،” اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شامی عوام کو ان عناصر کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا جو فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں

مقبول مضامین

مقبول مضامین