جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانرئیل اسٹیٹ 'ڈبل ٹیکسیشن' کا شکار ہے: آباد

رئیل اسٹیٹ ‘ڈبل ٹیکسیشن’ کا شکار ہے: آباد
ر

اسلام آباد: پاکستان ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی نے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں جائیدادوں کی رجسٹریاں سب رجسٹرارز کے پاس زیر التوا ہیں کیونکہ پنجاب ریونیو بورڈ (بور) اور پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی (پی ایل آر اے) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 236C کو الاٹمنٹ کی رجسٹری پر بھی لاگو کرنے کا مؤقف اپنایا ہے، جس کے باعث رئیل اسٹیٹ سیکٹر ڈبل ٹیکسیشن کا شکار ہو رہا ہے۔بخششی نے کہا کہ ڈویلپرز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز پہلے ہی سیکشن 7-F کے تحت ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں پلاٹ یا فلیٹ کی پہلی فروخت یا پہلی رجسٹری پر دوبارہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ غیر منصفانہ ہے۔ریئل اسٹیٹ انڈسٹری کے مطابق، انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236C میں "الاٹمنٹ” کا ذکر واضح طور پر پہلی فروخت کے طور پر کیا گیا ہے، جو کہ شہداء، جنگ میں زخمی ہونے والے افراد اور مسلح افواج، وفاقی یا صوبائی حکومت کے دوران وفات پانے والے افراد کے اہل خانہ کے لیے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ الاٹمنٹ کو پہلی فروخت تصور کیا جاتا ہے اور اسے 236C کے تحت وِدہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر نجیب احمد نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، تاہم ٹیکس حکام اگلے بجٹ میں اس پر غور کریں گے۔ دوسری جانب، پنجاب بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس ممبر زمان وٹو کا کہنا ہے کہ سب رجسٹرار ہمارے وِدہولڈنگ ایجنٹ ہیں، اور جب بھی کوئی رجسٹری ہوتی ہے، سیکشن 236C لاگو کیا جاتا ہے، چاہے وہ پہلی رجسٹری ہی کیوں نہ ہو۔رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ پہلی فروخت یا الاٹمنٹ کو کاروباری آمدنی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو کہ مختلف ٹیکس قوانین کے تحت آتی ہے۔ ڈویلپرز پر اضافی ٹیکس لگانے سے نہ صرف کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو لیکویڈیٹی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان میں رئیل اسٹیٹ انڈسٹری خاص طور پر سندھ اور پنجاب میں مشکلات کا شکار ہے کیونکہ "ڈیولپرز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کو پہلے فروخت (الائٹمنٹ) کے وقت ڈبل ٹیکسیشن کا سامنا ہےیہ مسئلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پنجاب میں بورڈ آف ریونیو (BoR) اور پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی (PLRA) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 236C کی ایسی تشریح کی جس کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹیز کو پہلے فروخت (الائٹمنٹ) پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑ رہا ہے۔ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (ABAD) کے چیئرمین حسن بخشی نے کہا کہ "یہ فیصلہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ڈبل ٹیکسیشن کے مترادف ہے”، جس کے باعث بڑی تعداد میں پراپرٹی کی رجسٹریاں سب رجسٹرار کے دفاتر میں التوا کا شکار ہیں۔

قانونی پہلو
ٹیکس قوانین کے مطابق، سیکشن 236K پراپرٹی کی الائٹمنٹ اور منتقلی دونوں پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ سیکشن 236C صرف ٹرانسفر پر لاگو ہونا چاہیے۔ الائٹمنٹ کا مطلب ڈیولپرز کی طرف سے پہلی فروخت ہے جبکہ ٹرانسفر کا مطلب بعد میں خریداروں کے درمیان ملکیت کی منتقلی ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ ایس آر او نمبر 1376(I)/2024 کے مطابق، "الائٹمنٹ” کو پہلی فروخت اور "ٹرانسفر” کو دوبارہ ملکیت کی منتقلی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ 236C کا اطلاق صرف ٹرانسفر پر ہونا چاہیے، نہ کہ الائٹمنٹ پر۔

معاشی اثرات
حسن بخشی کے مطابق، پہلے فروخت پر ٹیکس عائد کرنا ناانصافی ہے کیونکہ ڈیولپرز پہلے ہی سیکشن 7F کے تحت ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ مزید برآں، ان کے ریفنڈز بھی ایک سال تک کلیئر نہیں ہوتے اور بعض اوقات ادا ہی نہیں کیے جاتے، جس کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو لیکویڈیٹی بحران کا سامنا ہے۔پنجاب بورڈ آف ریونیو کے ممبر ٹیکس، زمان وٹو کے مطابق، سب رجسٹرارز کو ودہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرنا ہوتا ہے اور جب بھی رجسٹری ہوتی ہے، سیکشن 236C لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ پہلی فروخت (الائٹمنٹ) ہی کیوں نہ ہو۔دوسری جانب، ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر نجیب احمد نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اسے آئندہ بجٹ میں بھی جانچا جائے گا۔

ڈویلپرز کا مؤقف
ڈیولپرز کا مؤقف ہے کہ الائٹمنٹ اور ٹرانسفر میں واضح فرق ہے اور پہلے فروخت پر سیکشن 236C لاگو کرنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس فیصلے سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں جمود پیدا ہو رہا ہے، سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے، اور ہزاروں رجسٹریاں تعطل کا شکار ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر ثانی کرے اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے لیے آسانیاں پیدا کرے تاکہ معیشت کی ترقی میں اس کا کردار برقرار رکھا جا سکےیہ بات واضح ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 236C کا اطلاق صرف پراپرٹی کی منتقلی (Transfer) پر ہوتا ہے، نہ کہ الائٹمنٹ (Allotment) پر، جیسا کہ ایف بی آر کے جاری کردہ SRO No. 1376(I)/2024 میں وضاحت کی گئی ہے۔

الائٹمنٹ اور ٹرانسفر میں فرق

  1. الائٹمنٹ (Allotment) کا مطلب ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی یا ڈیولپر پہلی بار کسی شخص کو پراپرٹی الاٹ کر رہا ہے، جو کہ ایک بزنس سرگرمی ہے۔
  2. ٹرانسفر (Transfer) کا مطلب ہے کہ پہلے سے الاٹ شدہ پراپرٹی کا مالکانہ حق ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہو رہا ہے، جو کہ "Advance Tax” کے زمرے میں آتا ہے۔

ٹیکس کا دائرہ کار

  • الائٹمنٹ پر سیکشن 236C کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایک تجارتی سرگرمی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کو "Income from Business” کے طور پر سیکشن 18 اور 36 کے تحت ٹیکس کیا جاتا ہے۔
  • پراپرٹی کی دوبارہ فروخت (Resale) پر، جو کہ درحقیقت ملکیت کی تبدیلی ہوتی ہے، سیکشن 236C لاگو ہوگا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کو "Capital Gain” تصور کیا جائے گا۔

ڈبل ٹیکسیشن کا مسئلہ

اگر الائٹمنٹ پر بھی سیکشن 236C کے تحت ٹیکس لگایا جائے، تو یہ ڈبل ٹیکسیشن ہوگی، کیونکہ ڈیولپر پہلے ہی اپنی آمدن پر بزنس انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

حکومت سے مطالبہ

رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کا مطالبہ ہے کہ:

  • ایف بی آر اور صوبائی ریونیو حکام SRO 1376(I)/2024 کی روشنی میں الائٹمنٹ پر 236C لاگو نہ کریں۔
  • ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس ریفنڈز بروقت دیے جائیں۔
  • بجٹ 2025 میں اس معاملے کو واضح طور پر حل کیا جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کو استحکام مل سکے۔

نتیجہ

ٹیکس قوانین کے غلط اطلاق سے پراپرٹی مارکیٹ میں جمود پیدا ہو رہا ہے، ہزاروں رجسٹریاں رکی ہوئی ہیں، اور ڈیولپرز کو لیکویڈیٹی کرائسس کا سامنا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت مداخلت نہ کی، تو اس کا اثر ملکی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

سیکشن 236C کا اصل مقصد اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کا مؤقف

رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ سیکشن 236C کا بنیادی مقصد ان ٹرانزیکشنز پر ٹیکس لگانا ہے جو کیپیٹل گین (Capital Gains) کی آمدنی کے زمرے میں آتی ہیں، جبکہ ڈیولپرز کی پہلی فروخت (Allotment/First Sale) کو "بزنس انکم” کے طور پر تصور کیا جاتا ہے، جس کا ٹیکس کا دائرہ کار مختلف ہے۔

بنیادی نکات:

  1. الگ الگ ٹیکسیشن کی وضاحت
    • پہلی فروخت (Allotment) → "بزنس انکم” کے تحت ٹیکس ہوتا ہے، جو کہ مختلف سیکشنز کے تحت لگایا جاتا ہے۔
    • بعد میں فروخت (Resale/Transfer) → "کیپیٹل گین انکم” کے تحت آتی ہے، جس پر سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس لگایا جاتا ہے۔
    • ایک ہی قسم کی آمدنی پر مختلف سیکشنز کے تحت دو بار ٹیکس لاگو نہیں ہو سکتا۔
  2. سیکشن 7E(2)(i) کی وضاحت
    • سیکشن 7E(2)(i) کو شامل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بلڈرز اور ڈیولپرز کو پراپرٹی پر لاگو ٹیکسز سے استثنیٰ دیا جائے، کیونکہ وہ اسے کاروباری مقاصد کے لیے رکھتے ہیں۔
    • یہ نقطہ اس مؤقف کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ڈیولپرز پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہونا چاہیے۔
  3. IRIS سسٹم میں تضاد
    • ہاؤسنگ سوسائٹیز بطور Withholding Agent سیکشن 236C(1) کے تحت مقرر کی گئی ہیں، یعنی وہ ٹیکس کی کٹوتی کے ذمہ دار ہیں۔
    • IRIS سسٹم میں یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی ادارہ Withholding Agent اور Withholdee دونوں ہو، جو اس بات کو مزید واضح کرتا ہے کہ الائٹمنٹ پر 236C لاگو نہیں ہونا چاہیے۔
  4. ٹیکس لگانے کے طریقہ کار میں تضاد
    • عام طور پر بزنس ایکٹیویٹیز پر ٹیکسز (جیسے سیکشن 150، 151، 152، 153، وغیرہ) ریونیو پر فیصد کے حساب سے لاگو کیے جاتے ہیں۔
    • سیکشن 236C کے تحت پراپرٹی کی کل مالیت (Value of Property) پر ٹیکس لگایا جاتا ہے، نہ کہ سوسائٹی کے ریونیو پر۔
    • اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ 236C کا اطلاق پراپرٹی کی منتقلی (Transfer) پر تو ہو سکتا ہے، لیکن پہلی فروخت (Allotment) پر نہیں۔

رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کا مطالبہ

  • الائٹمنٹ/پہلی فروخت کو مکمل طور پر 236C سے استثنیٰ دیا جائے۔
  • IRIS سسٹم اور ٹیکس قوانین میں تضادات کو ختم کیا جائے۔
  • بجٹ 2025 میں اس معاملے کو واضح طور پر حل کیا جائے تاکہ بلڈرز اور ڈیولپرز کو ڈبل ٹیکسیشن سے بچایا جا سکے۔

نتیجہ

ٹیکس قوانین کی غلط تشریح کی وجہ سے پراپرٹی مارکیٹ میں جمود پیدا ہو رہا ہے، ہزاروں رجسٹریاں رکی ہوئی ہیں، اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہے۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں، تو ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین