یمنی انصار اللہ تحریک کے رہنما، سید عبدالملک الحوثی کا کہنا ہے کہ جو لوگ تکفیری گروہوں کی فوجی، سیاسی اور مالی مدد کرتے ہیں، وہ ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔یمنی انصار اللہ تحریک کے رہنما، سید عبدالملک الحوثی نے اتوار کے روز شام میں "تکفیری گروہوں” کے ہاتھوں کیے جانے والے قتل عام کی مذمت کی اور تمام فریقوں سے ان جرائم کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا۔شام کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے، سید الحوثی نے کہا کہ جو لوگ تکفیری گروہوں کی فوجی، سیاسی اور مالی مدد کرتے ہیں، وہ بھی ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ گروہ نہ صرف مظالم ڈھاتے ہیں بلکہ ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جو ان کے مجرمانہ عزائم کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔یمنی رہنما نے مزید کہا کہ "شام میں تکفیری گروہ سیکڑوں نہتے اور پُرامن شہریوں کی نسل کشی کر رہے ہیں۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ گروہ شام کے سماجی ڈھانچے کو تباہ کر کے "اسرائیل” اور امریکہ کے مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔
سید الحوثی نے وضاحت کی کہ "امریکی اور اسرائیلی اس صورتحال میں خود کو شامی عوام کے محافظ اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔”انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "اسرائیل نے السویدہ میں دروز برادری کی حفاظت کا اعلان کیا ہے، اسی وجہ سے تکفیری گروہ ان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔یمنی رہنما کے مطابق، "تکفیری گروہ السویدہ میں دروز برادری کے ساتھ اس لیے متفق ہیں کیونکہ اسرائیل نے ان کی حفاظت کا اعلان کیا ہے” اور دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں نقصان پہنچایا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔مزید برآں، انصار اللہ کے رہنما نے وضاحت کی کہ امریکہ "کردوں کے علاقوں میں خود کو ان کا محافظ ظاہر کرتا ہے، انہیں مسلح کرتا ہے اور بھرتی کرتا ہے”، جبکہ "دیگر شامی خود کو نشانے پر محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ نہ تو امریکی تحفظ میں ہیں، جیسے کرد، اور نہ ہی اسرائیلی تحفظ میں، جیسے دروز۔”سید عبدالملک الحوثی نے دعویٰ کیا کہ "تکفیری گروہوں کے مظالم اور جرائم امریکی، اسرائیلی اور صیہونی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں”، یہ کہتے ہوئے کہ ان قوتوں نے ان گروہوں کو اپنے اسٹریٹیجک مقاصد کے لیے تخلیق کیا اور پروان چڑھایا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ گروہ اسلام کی شبیہ کو مسخ کر رہے ہیں اور حقیقی جہاد میں ملوث نہیں ہیں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اگر وہ ہوتے تو وہ "اسرائیل” کے خلاف لڑ رہے ہوتے۔ان کے یہ بیانات ان خبروں کے درمیان سامنے آئے ہیں کہ شام کے ساحلی شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور معزول اسد حکومت سے منسلک جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں کم از کم 745 عام شہری شامل ہیں، جو علوی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
اسلامی گروپ "حیئت تحریر الشام” (HTS)، جس نے دسمبر میں اسد کو اقتدار سے ہٹانے کی مہم کی قیادت کی تھی، نے عوامی سطح پر شام کی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے تحفظ کا عہد کیا ہے۔ تاہم، HTS کو امریکہ، روس اور اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے القاعدہ کے ساتھ تاریخی تعلقات رہے ہیں۔شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق، جو شام میں ذرائع کے ایک نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے، نے حالیہ دنوں میں متعدد قتل عام کی اطلاع دی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
"متاثرین کی بھاری اکثریت کو وزارت دفاع اور داخلہ سے منسلک عناصر نے ماورائے عدالت قتل کیا،” رصدگاہ نے جمعہ کے روز نشاندہی کی۔

