جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانکراچی، کوئٹہ، لاہور سمیت 14 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس...

کراچی، کوئٹہ، لاہور سمیت 14 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق
ک

ملک کے 14 اضلاع سے حاصل کردہ سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جو ان علاقوں میں وائرس کی گردش کو ظاہر کرتی ہے۔خبر کے مطابق قومی صحت کے ادارے (این آئی ایچ) میں قائم انسداد پولیو کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ملک بھر کے 43 اضلاع سے سیوریج کے نمونے جمع کیے گئے تھےلیبارٹری کے مطابق گوادر، کیچ، خضدار، قلعہ سیف اللہ، نصر آباد، کوئٹہ، استاد محمد، لاہور، سرگودھا، کراچی شرقی، کراچی جنوبی، ایبٹ آباد، بنوں اور ٹانک کے سیوریج کے نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون (ڈبلیو پی وی ون) کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔تاہم، مظفرآباد، گلگت، دیامر، اسلام آباد، دُکّی، مستونگ، بارکھان، حب، لاہور، گجرات، بہاولپور، راولپنڈی، ساہیوال، اوکاڑہ، میانوالی، اٹک، جھنگ، بہاولنگر، خانیوال، ڈیرہ اسمٰعیل خان، مانسہرہ، پشاور، سوات، نوشہرہ، بٹگرام، دیر لوئر، چارسدہ، مردان اور شمالی وزیرستان کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی۔

اسی دوران، پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے خواتین کے عالمی دن 2025 کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے خواتین ہیلتھ ورکرز کے کردار کو سراہا گیا۔اسلام آباد کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں منعقدہ تقریب میں 58.4 فیصد سے زائد خواتین پولیو ورکرز کی محنت اور لگن کو سراہا گیا، جو مشکل ترین حالات میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تقریب میں قومی و صوبائی کوآرڈینیٹرز سمیت سینئر حکام نے شرکت کی۔ملک بھر سے خواتین ہیلتھ ورکرز نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ پولیو پروگرام کی قیادت نے فیلڈ میں کام کرنے والی خواتین کے تحفظ اور کام کے حالات کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو، عائشہ رضا فاروق نے اس موقع پر کہا کہ حکومت فرنٹ لائن پر کام کرنے والی خواتین کے لیے محفوظ اور بااختیار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا، "آج، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر، میں فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والی ہر خاتون کے لیے محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول کو یقینی بنانے کے اپنے اجتماعی عزم کو دہرانا چاہتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ پولیو پروگرام نے ایک جامع انسدادِ ہراسانی پالیسی تشکیل دی ہے، جو خواتین کو ہراساں کیے جانے سے تحفظ کے ایکٹ کے مطابق ہے، تاکہ خواتین کارکنوں کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہراسانی سے پاک اور باعزت کام کی جگہ ہر کارکن کا بنیادی حق ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے نیشنل کوآرڈینیٹر انوار الحق نے فرنٹ لائن پر کام کرنے والی خواتین کارکنوں کی ثابت قدمی اور لگن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ "اس سال کا موضوع نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ہم ان خواتین پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ہیلتھ ورکرز اکثر مشکل اور خطرناک علاقوں میں انتھک محنت کرتی ہیں تاکہ ہر بچے تک زندگی بچانے والی پولیو ویکسین پہنچ سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین