کسان اتحاد پاکستان نے وزیرِاعظم کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں گندم کے نرخ اور کسانوں کو درپیش مسائل پر توجہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گندم کی قیمت 4 ہزار 200 روپے فی من مقرر کی جائے اور اس کی فوری خریداری کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کو مالی مشکلات سے بچایا جا سکے۔یہ خبر کسانوں کے بڑھتے ہوئے خدشات اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ کسان اتحاد پاکستان کے صدر خالد حسین باٹھ کے مطابق، اگر حکومت نے فوری طور پر گندم کی خریداری نہ کی تو ملکی غذائی تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔کسانوں پر عائد ناجائز ٹیکسوں اور اضافی بجلی بلوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بجلی کے اضافی بلوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور کسانوں کو سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ زرعی شعبہ بحران سے بچ سکے۔گندم کی امدادی قیمت میں کمی اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث کاشتکار زیادہ منافع بخش فصلوں، جیسے سبزیاں، سرسوں اور دالوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی رپورٹ کے مطابق، امدادی قیمت کے خاتمے کے بعد گندم کے زیرِ کاشت رقبے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
اس صورتحال میں کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت گندم کی خریداری کو یقینی بنائے، نرخ 4,200 روپے فی من مقرر کرے اور زرعی شعبے کو بحران سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

