پاکستان کو 2025 کے لیے سوکس (Civicus) مانیٹر کی انسانی حقوق کی واچ لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں شہری آزادیوں کی بتدریج محدودیاں، انسانی حقوق کے کارکنوں کو حکومتی اداروں کی جانب سے من مانی کارروائیوں کا نشانہ بنانا، اور صحافیوں کو سخت قوانین کے تحت دبانے کی کوششیں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق، سوکس (Civicus) مانیٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2025 کی واچ لسٹ میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، سربیا، اٹلی اور امریکا کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا گیا ہے جہاں شہری آزادیوں میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سوکس نے اپنی ویب سائٹ پر پاکستان کی حیثیت کو "دبایا ہوا” (Repressed) قرار دیا ہے۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو مجرم ٹھہرانے، اپوزیشن اور اقلیتوں کے احتجاج کو دبانے، اور ڈیجیٹل پابندیوں کے باعث ملک کو واچ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔اعلامیے میں خاص طور پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری کے خلاف حکومت کی جانب سے جھوٹے الزامات عائد کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ماہ رنگ بلوچ کو دھرنوں کے انعقاد اور اجتماعات میں شرکت کرنے پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت متعدد مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔اعلامیے کے مطابق، ایمان زینب مزاری کو دہشت گردی کے الزامات میں نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ تشدد اور ظلم و ستم کے متاثرین کے لیے قانونی معاونت فراہم کرتی ہیں اور مظلوم مذہبی و نسلی برادریوں کے حقوق کی وکالت کرتی ہیں۔سوکس (Civicus) مانیٹر کا کہنا ہے کہ 2024 میں بھی پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) پر پابندی لگانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔سوکس کے ایڈووکیسی اینڈ کمپین افسر برائے ایشیا، راجویلو کرونانیتھی نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ایمان زینب مزاری جیسے انسانی حقوق کے محافظین کے خلاف الزامات محض سیاسی انتقام اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش ہیں۔
اعلامیے میں کرونانیتھی کے حوالے سے کہا گیا کہ سوکس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان من گھڑت الزامات کو فوری طور پر واپس لے اور پشتون تحفظ موومنٹ پر عائد پابندی ختم کرے۔مانیٹر نے مشاہدہ کیا کہ گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر میں سیاسی مخالفین کے احتجاج کے خلاف منظم کریک ڈاؤن کیا گیا۔ سوکس کا کہنا ہے کہ احتجاج سے قبل سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان پر مبہم اور سخت قوانین کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔ حکام نے مظاہرین کی نقل و حرکت روکنے کے لیے اہم شاہراہوں اور راستوں کو بھی بند کر دیا۔سوکس مانیٹر کا کہنا ہے کہ سندھی اور بلوچ قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے احتجاج کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ شہری آزادیوں کے تحفظ کے پاکستان کے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس کے علاوہ، صحافیوں کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت نشانہ بنایا گیا، اور ان پر ریاستی اداروں کے خلاف ’جھوٹی کہانیاں پھیلانے‘ کے الزامات عائد کیے گئے۔سوکس نے نوٹ کیا کہ پیکا میں جنوری 2024 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ آزادی اظہار پر کنٹرول مزید سخت کیا جا سکے۔مزید برآں، پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) فروری 2024 سے بند ہے۔
پریس ریلیز میں احتجاج کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا بھی ذکر کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ حزب اختلاف، نسلی اقلیتوں کے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن، صحافیوں کو نشانہ بنانا، اور ڈیجیٹل پابندیاں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے خلاف ہیں، اور یہ اقدامات اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی سفارشات کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔سوکس کے مطابق، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے اکتوبر 2024 میں شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کو مخصوص سفارشات پیش کی تھیں۔راجویلو کرونانیتھی کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو پرامن احتجاج اور آزادی اظہار کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

