قبائلی عمائدین اور تاجروں نے طورخم سرحد پر اپنے افغان ہم منصبوں سے ملاقات کی تاکہ امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے اور پاک-افغان سرحدی حد بندی کے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستانی اور افغان فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد سرحد گزشتہ چند ہفتوں سے بند ہے۔
مذاکرات کے اس طویل سیشن میں فریقین نے افغانستان کی جانب متنازع سرحدی چوکی کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔پاکستانی جرگے کے ارکان نےبتایا کہ وہ حکومت کی جانب سے مکمل اختیار اور سرحدی ڈھانچے کی بار بار خلاف ورزیوں سے متعلق پاکستان کے تحفظات کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان حکام سے ملنے گئے تھے۔افغان جرگے کے نمائندوں نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات اور اعتراضات کو سننے کے بعد اپنے حکام سے مشاورت کے لیے مہلت طلب کی۔افغان وفد کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان سرحدی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کے حوالے سے متفقہ پروٹوکولز پر مکمل عمل کر رہا ہے، جبکہ افغان حکومتوں نے ماضی میں ان پروٹوکولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، پاکستان کے اعتراضات کے باوجود، زیرو پوائنٹ کے قریب سیکیورٹی چیک پوسٹیں بنانے کی کوشش کی ہے۔ذرائع کے مطابق، پاکستانی جرگے نے تجویز دی کہ سرحد کو مستقل طور پر کھلا رکھنے کے لیے افغان حکام کو یکطرفہ طور پر سرحدی ڈھانچے میں تبدیلی نہ کرنے اور ایک ماہ تک عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد کی نئی ضمانت دینا ہوگی۔اس دوران، جرگے کے ارکان دونوں ممالک کے متعلقہ سرکاری حکام سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ سرحد کو مستقل طور پر کھولنے کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی اور سیاسی معاملات کو الگ رکھنے پر بھی حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ذرائع کے مطابق، اتوار کو ہونے والی بات چیت مکمل طور پر قبائلی روایات کے مطابق ہوئی، جس میں تنازعات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔پاکستانی جرگے نے واضح کیا کہ اگر افغان فریق کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان سخت ردعمل دے گا، جس پر افغان جرگے کے ارکان نے خود کو مشکل صورتحال میں محسوس کرتے ہوئے کابل اور جلال آباد میں حکام کو پیغام پہنچانے کے لیے وقت مانگا۔
افغان وفد کو بتایا گیا کہ اگر طالبان حکومت اپنی جانب سرحدی چیک پوسٹ کی تعمیر نو یا تزئین و آرائش روک دے تو پاکستان سرحد کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تیار ہےذرائع کے مطابق، یہ جرگہ ایک ہفتے کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا، جس میں افغان قبائلی عمائدین سے روابط بھی شامل تھے۔ اس دوران، پاکستان کی جانب سے مقامی سیکیورٹی حکام کے ساتھ افطاری کا اہتمام بھی کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی جرگے میں شامل عمائدین نے مقامی سیکیورٹی حکام کے ساتھ ایک افطار ڈنر کا انعقاد کیا، جہاں جرگے کے شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دی گئی

