جمعرات, فروری 12, 2026
ہوممضامیناسرائیلی "رفیوزنک" جس نے غزہ میں نسل کشی کو مسترد کرنے پر...

اسرائیلی "رفیوزنک” جس نے غزہ میں نسل کشی کو مسترد کرنے پر 197 دن قید کاٹی
ا

تحریر: حمیرا احد

4 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں، ایتامار گرین برگ نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے بالآخر 197 دنوں کی قید کے بعد انہیں رہا کر دیا ہے۔ انہوں نے اس مدت کو "طویل اور تھکا دینے والا وقت” قرار دیا۔

گرین برگ، جو خود کو "رفیوزنک” کہتے ہیں، نے لکھا:
"برائی کو آج سے کانپنا شروع کر دینا چاہیے، کیونکہ میں اس کے خلاف پوری طاقت سے لڑنے کے لیے تیار ہوں— یہاں تک کہ یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن جائے۔”

یہ اعلان اس سے صرف ایک دن پہلے آیا جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ چھٹی مرتبہ دوبارہ جیل جا رہے ہیں، کیونکہ وہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم میں شریک ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا:
"نسل کشی نہیں، جبر نہیں، قبضہ نہیں، رنگ بھید نہیں۔ ہم ہتھیار اٹھانے سے انکار کرتے ہیں۔ کیا آپ انہیں فراہم کرنے سے انکار کریں گے؟”

اس پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بیان بھی موجود تھا، جس میں انہوں نے کہا:
"مغربی کنارہ جل رہا ہے، غزہ تباہ ہو چکا ہے، دسیوں ہزار افراد قتل ہو چکے ہیں۔ یہ دفاع نہیں بلکہ ایک جابرانہ نظام ہے جو اپنی انسانیت کھو چکا ہے۔ آپ کی حد کہاں ہے؟ میری حد کب کی پار ہو چکی۔”

رفیوزنک کون ہوتے ہیں؟

اسرائیل میں زیادہ تر شہریوں کے لیے 18 سال کی عمر کے بعد فوج میں بھرتی ہونا لازمی ہے۔ تاہم، کچھ نوجوان جو اس نوآبادیاتی اسرائیلی معاشرے میں پروان چڑھے ہیں، فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو "رفیوزنک” کہا جاتا ہے۔

ضمیر کے قیدی، جنہیں عرف عام میں "رفیوزنک” کہا جاتا ہے، عام طور پر فوجی بھرتی مراکز میں مقدمے کا سامنا کرتے ہیں اور انہیں 10 سے 21 دن کی سزا دی جاتی ہے۔ رہائی کے بعد انہیں دوبارہ بھرتی مرکز بلایا جاتا ہے، جہاں وہ ایک بار پھر انکار کا اعلان کرتے ہیں۔ اسرائیل رفیوزنک افراد کو کئی بار جیل بھیج کر مہینوں تک سزائیں دیتا ہے۔

ایتامار گرین برگ کے لیے فوجی خدمت سے انکار مزید مشکل تھا، کیونکہ وہ ایک انتہائی مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کے والد خود اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انہوں نے +972 میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
"میں ایک ایسے والد کے ساتھ پلا بڑھا جو 25 سال تک ریزرو فوج میں خدمات انجام دیتے رہے اور اب بھی دس ماہ سے ریزرو ڈیوٹی پر ہیں۔ اس کا گھر کے ماحول پر گہرا اثر ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:
"یہ آسان نہیں… اصل قیمت جیل نہیں بلکہ وہ حالات ہیں جو باہر پیش آتے ہیں۔ میں اپنی فیملی کی قیمت کی فکر کرتا ہوں کیونکہ وہ اس کے مستحق نہیں۔”

سیاسی شعور میں اضافے کے ساتھ، گرین برگ نے اس نظام کا حصہ بننے سے انکار کر دیا جو فلسطینیوں کے خلاف جبر اور قبضے پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا:
"میں نے مذہب چھوڑ دیا، اور چونکہ میں ہمیشہ سے ایک سیاسی شخص رہا ہوں، اس نے مجھے انصاف کی طرف راغب کیا اور میں آج یہاں پہنچا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ فوج میں شامل ہونے سے انکار کا فیصلہ اسی کا نتیجہ تھا۔”

اسرائیلی نوجوانوں میں بیداری کا رجحان

جیسے جیسے اسرائیل کی نوآبادیاتی بربریت کا اصل چہرہ سامنے آ رہا ہے، بہت سے نوجوان اسرائیلی فوج میں شامل ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔

ستمبر 2023 میں، 230 اسرائیلی نوجوانوں نے ایک خط لکھ کر فوج میں شامل ہونے سے انکار کا اعلان کیا۔ اس کے بعد تقریباً 50 اسرائیلی طلبہ نے ایک اور خط پر دستخط کیے، اور کچھ نے تو عوامی طور پر اپنی بھرتی کے احکامات جلا دیے۔

تاہم، "رفیوزنک” بننے کا راستہ آسان نہیں۔ انہیں اسرائیلی معاشرے میں شدید سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں غدار سمجھا جاتا ہے۔

گرین برگ پر حملے اور نفرت انگیز جرائم

گرین برگ کو دیگر اسرائیلی باشندوں کی طرف سے نفرت انگیز حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے انہیں زدوکوب کیا اور ہراساں کیا۔

27 فروری کو، انہوں نے ایکس پر لکھا:
"آج شام، جب میں ایک دائیں بازو کے مظاہرے کے قریب احتجاج کر رہا تھا، تو مجھ پر حملہ کیا گیا۔ بچوں نے مجھ پر تھوکا، میرے پوسٹر پھاڑ دیے، اور مجھ پر پٹاخے پھینکے۔ یہ دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے۔”

گرین برگ "میسارووت” نامی ایک تنظیم کا حصہ ہیں، جس کا مطلب عبرانی میں "ہم انکار کرتے ہیں” ہے۔ یہ نوجوانوں کا ایک گروپ ہے جو اسرائیلی فوج میں بھرتی نہ ہونے کی حمایت کرتا ہے۔

میسارووت، رفیوزنک افراد کو جیل اور قانونی معاملات کے لیے تیاری میں مدد فراہم کرتی ہے، اور انہیں ایک ایسا سماجی حلقہ مہیا کرتی ہے جو اسرائیلی معاشرے کی طرف سے مسترد کیے جانے کے باوجود ان کا ساتھ دیتا ہے۔

اسرائیلی تعلیمی نظام اور فوجی بھرتی

مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی وزارت تعلیم اور فوج کے اشتراک سے ایسے منصوبے چلائے جا رہے ہیں جو بچوں کو اسرائیلی فوج سے جوڑنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

اسرائیل کے سابق وزیر تعلیم گیڈون ساعر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا:
"آئی ڈی ایف (اسرائیلی قبضے کی فوج) میں بھرتی کی حوصلہ افزائی کوئی احسان نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ ہے۔”

اسرائیلی اسکولوں میں فوجی کمانڈرز کو مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ طلبہ کو فوج میں شامل ہونے اور جنگی کردار ادا کرنے پر آمادہ کر سکیں۔

"نیو پروفائل” نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والی سحر وردی، جو خود بھی 2008 میں فوجی بھرتی سے انکار کر چکی ہیں، کہتی ہیں:
"تعلیمی نظام نوجوانوں کو یہ سکھاتا ہے کہ فوج جو کچھ کر رہی ہے، وہ درست ہے۔ مسائل کو حل کرنے کے لیے تشدد جائز ہی نہیں بلکہ معاشرے میں اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔”

بیداری اور مزاحمت کا پیغام

ایتامار گرین برگ کافی عرصے سے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی معاشرے کے اندر بیداری پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا:
"یہ اسرائیلی معاشرے کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ وہ انکار کرنا شروع کریں۔ میں اپنے ساتھیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے اقدامات پر غور کریں۔ بھرتی ایک سیاسی فیصلہ ہے، اور اسے اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے عقائد کے مطابق انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔”

گرین برگ مغربی کنارے میں سرگرم ہیں اور اسرائیلی فوج کی بربریت کے چشم دید گواہ ہیں۔

انہوں نے کہا:
"جب آپ اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں، تو یہ منظر آپ کے ذہن سے نہیں نکلتا۔ میں یہاں چل پھر رہا ہوں، لیکن میرا دماغ وہاں (مقبوضہ علاقوں) میں اٹکا ہوا ہے۔”

گرین برگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ "نفرت اور نسل کشی کے اس نہ ختم ہونے والے سلسلے” کا کبھی بھی حصہ نہیں بنیں گے۔ ان کے مطابق، ظلم میں شرکت سے انکار ہی تبدیلی اور مفاہمت کی طرف پہلا قدم ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین