ایک سینئر عراقی عہدیدار نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران سے عراق کو قدرتی گیس کی فراہمی پر کوئی پابندی عائد کرتا ہے تو اس سے عرب ملک کے بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔
عراقی پارلیمنٹ کی مالیاتی کمیٹی کے چیئرمین، عطوان العطوانی نے اتوار کے روز کہا کہ انہوں نے بغداد میں اعلیٰ امریکی سفارت کار کو آگاہ کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اس استثنیٰ کو منسوخ کرتا ہے جو عراق کو ایران سے قدرتی گیس درآمد کرنے کی اجازت دیتا ہے، تو اس کے نتیجے میں ملک کو اقتصادی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عطوانی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے ایران پر عائد اپنی پابندیوں کے تحت عراق کو بجلی کی درآمد کی دی گئی رعایت کو منسوخ کر دیا ہے۔
ماہرین نے اس اعلان کو غیر اہم قرار دیا ہے کیونکہ عراق اپنی مجموعی بجلی کی ضروریات کا صرف 4 فیصد ایران سے براہ راست درآمد کردہ بجلی سے پورا کرتا ہے۔
تاہم، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر اپنے نام نہاد "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد ملک کو سیاسی اور عسکری سطح پر رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔
بغداد میں امریکی ناظم الامور ڈینیئل روبن سٹین کے ساتھ اپنی ملاقات میں، عطوانی نے کہا کہ عراق کے پاس بجلی گھروں کو چلانے کے لیے ایرانی گیس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں، خاص طور پر گرم موسم گرما میں، جب ملک کے کئی حصوں میں بجلی کی طلب عروج پر ہوتی ہے۔
انہوں نے روبن سٹین کو بتایا، "ایرانی گیس کے بغیر، عراق کا بجلی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گا، خاص طور پر گرمیوں میں، کیونکہ فوری طور پر کوئی متبادل دستیاب نہیں۔”
ان کے بیان میں اس حقیقت کو دہرایا گیا کہ ایران سے عراق کو قدرتی گیس کی درآمد اب بھی امریکی پابندیوں کے دائرے سے باہر ہے۔
عطوانی اور روبن سٹین کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب عراق کو ایران سے گیس درآمد کرنے کی امریکی رعایت اپنی میعاد کے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔
عراق اپنی بجلی کی ضروریات کا تقریباً ایک تہائی ایران سے پوری کرتا ہے، کیونکہ دارالحکومت بغداد اور ملک کے وسطی و جنوبی علاقوں کو بجلی فراہم کرنے والے کئی اہم بجلی گھر زیادہ تر ایران سے درآمد شدہ قدرتی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔

