نیویارک: ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ کولمبیا یونیورسٹی سے 400 ملین ڈالر کی فنڈنگ واپس لے رہی ہے، تمام گرانٹس اور معاہدے منسوخ کر رہی ہے، کیونکہ حکومت کا کہنا ہے کہ آئیوی لیگ کی اس یونیورسٹی نے کیمپس میں سام دشمنی (یہود مخالف جذبات) کو روکنے میں ناکامی ظاہر کی ہے۔یہ اعلان پانچ دن بعد آیا جب وفاقی ایجنسیوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ نیویارک سٹی کی اس یونیورسٹی کے ساتھ 51 ملین ڈالر کے معاہدوں کو منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہیں اور آئندہ 5 بلین ڈالر سے زائد کے وفاقی گرانٹس کے لیے اس کی اہلیت کا جائزہ لے رہی ہیں۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کولمبیا یونیورسٹی نے ایک نیا تادیبی کمیٹی قائم کی اور اسرائیل کے ناقد طلبہ کے خلاف اپنی تحقیقات تیز کر دیں، جس پر آزادیٔ اظہار کے حامیوں نے تشویش ظاہر کی۔ تاہم، بظاہر یونیورسٹی کی ان کوششوں کو وفاقی حکومت نے ناکافی قرار دیا۔امریکی وزیر تعلیم لنڈا میک موہن نے ایک بیان میں کہا، "اگر یونیورسٹیاں وفاقی فنڈنگ حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں تمام وفاقی امتیازی سلوک کے خلاف قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔ کافی عرصے سے کولمبیا یونیورسٹی نے اپنے کیمپس میں زیر تعلیم یہودی طلبہ کے تحفظ کی ذمہ داری کو نظرانداز کیا ہے۔بعد ازاں، انہوں نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ انہوں نے یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ سے "مفید ملاقات” کی اور توقع ظاہر کی کہ "ہم سب طلبہ کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گےبعد ازاں، انہوں نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ انہوں نے یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ سے "مفید ملاقات” کی اور توقع ظاہر کی کہ "ہم سب طلبہ کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گےیہ واضح نہیں ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں کن تحقیقی منصوبوں، سرگرمیوں یا دیگر کاموں پر اس فنڈنگ کے خاتمے کا اثر پڑے گا، کیونکہ یونیورسٹی ایک میڈیکل سینٹر سمیت کئی دیگر شعبے بھی چلاتی ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس اعلان کا جائزہ لے رہی ہے۔س حوالے سے وفاقی محکمہ تعلیم کو ایک استفسار بھیجا گیا، جس نے جمعہ کے روز صحت، انصاف اور جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے محکموں کے ساتھ مل کر یہ اعلان جاری کیا تھا۔
اگرچہ تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کولمبیا میں تحقیقاتی منصوبوں کے سربراہ اگلے تعلیمی سال کے لیے اپنے بجٹ کا تعین کر رہے ہیں۔ ریٹائرڈ سینئر ریسرچ سائنسدان اور موجودہ استاد، ماہرِ سمندریات رابرٹ نیوٹن کا کہنا تھا کہ وہ "بہت فکر مند ہیں کہ اس فیصلے کا کیا مطلب ہوگا۔یہودی پس منظر رکھنے والے نیوٹن نے حکومت کے دعووں کو "مکمل طور پر جھوٹ” قرار دیا اور کہا کہ کولمبیا یونیورسٹی میں سام دشمنی (یہود مخالف جذبات) عام ہونے اور یہودی طلبہ کی شکایات کو نظرانداز کرنے کا تاثر غلط ہے۔دوسری جانب، 400 ملین ڈالر کی فنڈنگ کی منسوخی کا فیصلہ کولمبیا/بارنارڈ ہِلِل، جو کہ ایک یہودی طلبہ تنظیم ہے، کے لیے خوش آئند خبر ثابت ہوا۔ تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائن کوہن نے امید ظاہر کی کہ یہ "کولمبیا یونیورسٹی کی انتظامیہ اور ٹرسٹیز کے لیے ایک انتباہ ہوگا کہ وہ سام دشمنی اور یہودی طلبہ و اساتذہ کو ہراساں کرنے کے معاملات کو سنجیدگی سے لیں۔دوسری طرف، نیویارک سول لبرٹیز یونین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈونا لیبرمین نے اس فیصلے کو ایک غیر آئینی حکومتی اقدام قرار دیا، جس کا مقصد "کالجوں اور یونیورسٹیوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ طلبہ کے ایسے خیالات اور سرگرمیوں کو سنسر کریں جو میگا (MAGA) کے ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتے، جیسے کہ اسرائیل پر تنقید یا فلسطینی حقوق کی حمایت۔ایک پیغام تبصرے کے لیے فلسطین حامی مظاہرین کے ایک اتحاد گروپ کو بھیجا گیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس مہم کا پہلا ہدف بنی ہے جس کے تحت اسرائیل-حماس جنگ (جو اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی) کے تناظر میں سام دشمنی کو برداشت کرنے والی یونیورسٹیوں کی وفاقی فنڈنگ منقطع کی جا رہی ہے۔
یہ یونیورسٹی گزشتہ بہار میں امریکہ کیمپس پر ہونے والے جنگ مخالف مظاہروں میں پیش پیش تھی۔ اپریل میں فلسطین حامی مظاہرین نے ایک کیمپ قائم کیا تھا، جس نے دیگر یونیورسٹیوں میں بھی اسی طرز کے مظاہروں کو جنم دیا۔کولمبیا کے مظاہرین نے ایک موقع پر یونیورسٹی کی عمارت پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں پولیس کے مداخلت کے بعد درجنوں گرفتاریاں ہوئیں۔دریں اثنا، کانگریس میں ریپبلکن ارکان نے اُس وقت کی کولمبیا کی صدر مینوچ شفِک سے یونیورسٹی میں سام دشمنی کے خلاف اقدامات پر سخت سوالات کیے۔ شفِک نے کہا تھا کہ وہ "ذاتی طور پر اسے براہِ راست حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔” تاہم، چار ماہ بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔چند ہفتے بعد، یونیورسٹی کی ایک ٹاسک فورس نے رپورٹ دی کہ یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو تعلیمی ادارے میں طالب علم گروہوں سے خارج کیا گیا، کلاس رومز میں ذلت آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا، اور انہیں مظاہروں کے دوران زبانی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ دنوں میں، ایک نسبتاً چھوٹے گروپ نے کولمبیا سے منسلک بارنارڈ کالج میں مختصر دورانیے کی عمارتوں پر قبضے کیے، تاکہ دو ایسے طلبہ کی بے دخلی کے خلاف احتجاج کیا جا سکے جن پر اسرائیلی تاریخ کی ایک کلاس میں خلل ڈالنے کا الزام تھا۔ بدھ کے روز ایک عمارت پر کئی گھنٹوں کے قبضے کے بعد متعدد طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔کئی مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے غزہ میں اقدامات پر تنقید کرنا یا فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا سام دشمنی کے زمرے میں نہیں آتا۔ بعض طلبہ اور ان کے قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے سخت ڈسپلنری اقدامات کا مقصد حکومت کو خوش کرنے کے لیے فلسطین حامی تقاریر کو دبانا ہے۔کولمبیا ان چند یونیورسٹیوں میں شامل ہے جن کے خلاف نئی وفاقی سام دشمنی کی تحقیقات جاری ہیں۔ دیگر اداروں میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے؛ یونیورسٹی آف مینیسوٹا؛ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی؛ اور پورٹ لینڈ اسٹیٹ یونیورسٹی شامل ہیں۔

