جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستاننااہلی اور بجلی چوری سے پاور سیکٹر کو 158 ارب روپے کا...

نااہلی اور بجلی چوری سے پاور سیکٹر کو 158 ارب روپے کا نقصان: اے پی بی ایف
ن

نااہلی اور بجلی چوری سے پاور سیکٹر کو 158 ارب روپے کا نقصان: اے پی بی ایف

اسلام آباد – آل پاکستان بزنس فورم (APBF) نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے کو نااہلی اور بجلی چوری کے باعث 158 ارب روپے کے بھاری نقصان کا سامنا ہے، حالانکہ حکومت سالانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس، اور فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے مسلسل ٹیرف بڑھا رہی ہے، جس سے صنعتی پیداوار کی لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اے پی بی ایف کے صدر سید معاذ محمود نے وزارت توانائی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کے باعث 106 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ مجموعی 158 ارب روپے کے نقصان میں سے نصف سے زیادہ صرف دو پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں – حیسکو اور سیپکو – کی وجہ سے ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ کم ریکوری اور نااہلی کے نتیجے میں ہونے والے یہ نقصانات 158 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم ماہانہ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور پچھلے سالوں کی ریکوری سے کچھ حد تک اس نقصان کا ازالہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق، حکومت نے سہ ماہی اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافی 67 ارب روپے جبکہ دیگر قیمت ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے مزید 140 ارب روپے جمع کیے۔

بجلی کے شعبے کو 158 ارب روپے کا نقصان، حیسکو اور سیپکو سب سے بڑے ذمہ دار: اے پی بی ایف

آل پاکستان بزنس فورم (APBF) کی رپورٹ کے مطابق، بجلی کے شعبے کو نااہلی اور چوری کے باعث 158 ارب روپے کا نقصان ہوا، جس میں سے صرف حیسکو اور سیپکو نے 82 ارب روپے کے نقصانات میں حصہ ڈالا۔ یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں 28 ارب روپے زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق، یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ریاستی اداروں میں آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی سے حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔مزید برآں، رپورٹ کے مطابق، گردشی قرضہ دسمبر 2024 کے آخر تک 2.384 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا۔ تاہم، حکومت نے بجٹ سے 20 ارب روپے کی ادائیگی کے بعد گردشی قرضے میں 9 ارب روپے کی مجموعی کمی حاصل کی، جو جون 2024 میں 2.393 ٹریلین روپے تھا۔اے پی بی ایف کے چیئرمین ابراہیم قریشی نے کہا کہ اگرچہ قرضے کی مجموعی سطح میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن قیمتوں میں اضافے اور بجٹ میں دی گئی رقوم کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد گردشی قرضے میں خالص 11 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے گردشی قرضے میں 461 ارب روپے اضافے کی اجازت دی تھی، لیکن پاور ڈویژن کی کارکردگی اس سے کہیں بہتر رہی۔

بجلی چوری، نااہلی اور بلوں کی عدم ریکوری بڑے چیلنجز: اے پی بی ایف

آل پاکستان بزنس فورم (APBF) کے چیئرمین ابراہیم قریشی کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی، بجلی چوری، اور بلوں کی عدم ریکوری سے ہونے والے نقصانات بجلی کے شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بلوں کی عدم ریکوری کے باعث 52 ارب روپے کا نقصان ہوا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 97 ارب روپے کم ہے۔اے پی بی ایف کے صدر سید معاذ محمود نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ حکومت حیسکو اور سیپکو میں آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ جاری مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں گردشی قرضہ 463 ارب روپے بڑھا، جو ماہانہ اوسطاً 66 ارب روپے بنتا ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ اضافہ 408 ارب روپے تھا۔تاہم، جون 2023 سے جنوری 2024 تک 137 ارب روپے کی ادائیگیوں کو مدنظر رکھنے کے بعد گردشی قرضے میں خالص اضافہ 325 ارب روپے ہوا۔

رپورٹ کے مطابق:

  • بجلی پیدا کرنے والوں کو ادائیگیاں: مالی سال 2023 کے آغاز میں 1.434 ٹریلین روپے سے بڑھ کر جنوری 2023 میں 1.77 ٹریلین روپے تک پہنچ گئیں۔
  • ادائیگیاں جنوری 2024 کے آخر تک تقریباً 1.760 ٹریلین روپے پر مستحکم رہیں، جو صرف 8 ارب روپے کا معمولی فرق ہے۔
  • حکومتِ پاکستان کی ضمانت شدہ مستقل قرضے کی رقم 765 ارب روپے پر برقرار رہی۔

گردشی قرضے میں اضافہ: بنیادی وجوہات اور حکومتی اقدامات

گردشی قرضے میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص وصولیاں، لائن لاسز، بجلی پیدا کرنے کی لاگت کی عدم ادائیگی، کے-الیکٹرک کے بقایاجات، اور سود کی ادائیگیاں شامل ہیں۔ حالانکہ حکومت نے گزشتہ سال صارفین سے 116 ارب روپے کی ریکوری کے لیے کوششیں کیں، تاہم گردشی قرضے میں اضافہ بدستور برقرار رہا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق، حکومت کی بہتری کے دعووں کے باوجود بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2.6 ٹریلین روپے پر برقرار ہے اور اکتوبر 2023 سے اس میں نمایاں کمی نہیں آئی۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال کے آغاز میں کچھ مالیاتی بے ضابطگیوں کے باعث گردشی قرضے میں اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ جولائی 2023 میں بجلی کے نرخوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے بعد متوقع حد تک ریکوری نہ ہونا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین