ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فلسطینی حقوق کے تحفظ کے لیے دو ریاستی حل کو مسترد کرنے کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی فلسطینی کاز کے لیے غیر متزلزل حمایت ہر حال میں برقرار رہے گی۔جمعہ کے روز جدہ، سعودی عرب میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور مظالم پر تبادلہ خیال کے لیے بلائے گئے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، عراقچی نے ایران کے مضبوط مؤقف پر زور دیا اور تہران کی حمایت کو "ناقابل تردید” قرار دیا۔انہوں نے کہا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے فلسطینی کاز کے لیے غیر متزلزل حمایت ناقابل تردید ہے اور ہماری پختہ وابستگی کسی بھی صورت میں کمزور نہیں ہوگی۔‘‘
عراقچی نے دو ریاستی حل کو بھی مسترد کر دیا اور اس کے بجائے "ایک جمہوری ریاست” کو واحد قابل عمل حل قرار دیا۔انہوں نے کہا، ’’چند برادر ممالک کے دو ریاستی حل کے بارے میں نظریات کا احترام کرتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ حل فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول کی راہ ہموار نہیں کرے گا۔‘‘انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران ایک ایسی جمہوری ریاست کے حق میں ہے جو فلسطین کے تمام اصل باشندوں کی نمائندگی کرے اور اجلاس میں دو ریاستی حل کے کسی بھی ذکر سے تہران نے خود کو دور رکھا۔ایرانی وزیر خارجہ نے غزہ کے عوام پر اسرائیل کی 16 ماہ سے جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران ’’ناقابل بیان درد و تکلیف‘‘ کو بھی اجاگر کیا، جس میں اب تک 48,446 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔انہوں نے کہا، ’’فلسطین کی صورتحال، خاص طور پر غزہ کی پٹی میں، نہایت گہری تشویش کا باعث ہے۔ یہ بحران نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ ایک ایسے قوم کے ساتھ سنگین ناانصافی بھی ہے، جسے گزشتہ سات دہائیوں سے مسلسل اس کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار سے محروم رکھا گیا ہے اور جو مسلسل جارحیت اور قبضے کا شکار ہے۔‘‘اعلیٰ سفارتکار نے غزہ پر اسرائیلی جنگ میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی ’’غیر متزلزل اور غیر مشروط حمایت‘‘ کی شدید مذمت بھی کی۔واشنگٹن کی جانب سے تل ابیب کو دی جانے والی عسکری، مالی اور سفارتی مدد کا حوالہ دیتے ہوئے، عراقچی نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی پیش رفت واضح طور پر امریکہ کی اسرائیلی حکومت کے جرائم میں شمولیت کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’امریکہ نے ایک بار پھر بحران کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرنے کا انتخاب کیا ہے اور انصاف اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں پر اسرائیلی حکومت کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت کو ترجیح دی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل، اس غیر متزلزل حمایت کے باعث، ’’ناقابل تصور مظالم‘‘ کا ارتکاب کر چکا ہے، جو تمام بڑے بین الاقوامی جرائم میں شمار کیے جا سکتے ہیں، بشمول جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسلی تطہیر، نسلی امتیاز اور نسل کشی۔تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود، تل ابیب حکومت اب بھی احتساب سے بچی ہوئی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں پر اسے استثنیٰ حاصل ہے۔ عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ’’غزہ کی آبادی کو زبردستی بےدخل کرنے‘‘ کی کوششوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’بین الاقوامی قوانین، بشمول چوتھے جنیوا کنونشن، کی واضح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’مقبوضہ فلسطین کے آبادیاتی اور ثقافتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے‘‘ کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور یہ انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے منافی ہے۔انہوں نے خبردار کیا، ’’ایران خطے اور دنیا پر ایسے اقدامات کے سیاسی اور انسانی اثرات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ یہ موجودہ نسل کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، جبکہ آنے والی نسلوں کے لیے دائمی دکھ کی ضمانت دیتا ہے۔‘‘اپنی تقریر کے دیگر حصے میں، ایرانی سفارتکار نے اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کے ’’فطری‘‘ حقِ دفاع کی توثیق کی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’یہ حق بین الاقوامی قوانین میں تسلیم شدہ ہے اور اس کے لیے کسی بیرونی طاقت کی منظوری درکار نہیں انہوں نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اسرائیلی مظالم کو ’’اپنے دفاع‘‘ کے نام پر جواز فراہم کرتے ہیں، جبکہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو یہی حق دینے سے انکار کرتے ہیں۔عراقچی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان ’’گمراہ کن بیانیوں‘‘ کو مسترد کرے اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو، جو قبضے، نسل پرستی اور جارحیت کے خلاف لڑ رہے ہیں، بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز قوتیں تسلیم کرے۔ایرانی سفارتکار نے ’’اسرائیل کے خلاف اجتماعی پابندیوں‘‘ اور ان تمام کمپنیوں اور اداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسرائیلی قبضے اور اس کے جرائم کی معاونت کرتے ہیں۔انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ کم از کم ان پابندیوں کو نافذ کریں تاکہ صیہونی حکومت پر غزہ اور خطے کے دیگر عوام کے خلاف اپنے جرائم روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔عراقچی نے اسرائیل کی جانب سے تقریباً ایک ہفتے سے جاری غزہ میں انسانی امداد کی دوبارہ ناکہ بندی کو اجاگر کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے فوری امداد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے تجویز دی کہ اس اقدام کے ساتھ ساتھ OIC کی قیادت میں ایک بین الاقوامی مہم بھی شروع کی جائے، جو محصور غزہ میں گھروں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے مالی مدد فراہم کرے۔عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بار بار خلاف ورزیوں، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے، UNRWA کی انسانی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے، اور فلسطین میں سینکڑوں اقوام متحدہ کے عملے کے غیرمعمولی قتل عام کے پیش نظر اسرائیل کو اقوامِ متحدہ سے بےدخل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے ’’عالمی یومِ یادگار برائے غزہ کے متاثرین‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ غزہ کے عوام کی تکالیف کو ایک مستقل خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسرائیلی جرائم کے خلاف ان کی جدوجہد کو فراموش نہ کیا جائے۔

