یہ واقعی ایک سنگین مسئلہ ہے، خاص طور پر رمضان کے مہینے میں جب اخراجات پہلے ہی بڑھ جاتے ہیں۔ حکومت کی "کلین پنجاب پروگرام” کے تحت کام کرنے والے ان صفائی ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنا نہ صرف ان کی مالی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ ان کے بچوں کی تعلیم اور بنیادی سہولیات تک رسائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں صفائی کا کام انجام دینے والے سینکڑوں صفائی کارکن کئی ماہ سے اپنی تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ مالی بحران اور انتظامی نااہلی کے باعث یہ ملازمین شدید مشکلات کا شکار ہیں، اور روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مختلف شہروں میں کام کرنے والے صفائی کارکنوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں تاکہ وہ اپنے گھروں کے اخراجات پورے کر سکیں۔ "ہم دن رات شہر کو صاف رکھنے کے لیے محنت کرتے ہیں، لیکن کئی ماہ سے ہمیں تنخواہیں نہیں دی جا رہیں،” ایک صفائی کارکن نے شکایت کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ کی کمی اور دیگر مالی مسائل کی وجہ سے تنخواہوں میں تاخیر ہو رہی ہے، لیکن جلد ہی مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔ تاہم، صفائی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے حقوق کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ یہ احتجاج اور ان کا مطالبہ بالکل جائز ہے۔ اگر حکومت ایک صاف ستھرا پنجاب بنانے کا وعدہ کرتی ہے تو اسے ان محنت کش ملازمین کا بھی خیال رکھنا چاہیے جو دن رات اس مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

