جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانمعمول سے کم بارشیں، ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ ختم، گندم کی...

معمول سے کم بارشیں، ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ ختم، گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ
م

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے تربیلا اور منگلا ڈیموں کے تیزی سے ڈیڈ لیول کے قریب پہنچنے کے بعد پنجاب اور سندھ کو خبردار کیا ہے کہ وہ رواں فصل سیزن کے آخری مرحلے میں 35 فیصد تک پانی کی قلت کا سامنا کریں گے، پانی کی کمی سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔رپورٹ کے مطابق، ارسا نے چاروں صوبوں کو آگاہ کیا ہے کہ دونوں آبی ذخائر اپنی ڈیڈ لیول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

سیکریٹری آبپاشی کو لکھے گئے خط میں ارسا کے ڈائریکٹر آف ریگولیشن، خالد ادریس رانا نے خبردار کیا کہ پنجاب اور سندھ کو 30 سے 35 فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ارسا کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تربیلا ڈیم میں صرف 73 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہے، اور اس کی سطح 1,409 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو ڈیڈ لیول 1,400 فٹ سے صرف 9 فٹ اوپر ہے۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ سطح 1,550 فٹ ہے، جبکہ جمعہ کو 20 ہزار کیوسک کے اخراج کے مقابلے میں 17 ہزار کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح، منگلا ڈیم میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے، اور اس وقت اس کی سطح 1,088 فٹ ہے، جو ڈیڈ لیول 1,060 فٹ سے صرف 28 فٹ بلند ہے۔ منگلا ڈیم کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ 1,242 فٹ ہے، اور اسے 16,400 کیوسک پانی موصول ہو رہا تھا، جبکہ جمعہ کو 18,000 کیوسک پانی خارج کیا گیا۔ارسا نے خبردار کیا کہ روزانہ کے اخراج کے اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تربیلا اور منگلا ڈیم اگلے چند دنوں میں اپنی ڈیڈ لیول کو چھو سکتے ہیں۔ ادارے نے پہلے ہی 2 اکتوبر 2024 کو ربیع سیزن کے آغاز میں اندازہ لگا لیا تھا کہ مارچ 2025 کے پہلے 10 دنوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جائے گیآبی ذخائر کا ڈیڈ لیول تک پہنچنا ایک معمول کا واقعہ ہے اور یہ سال میں دو بار ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس بار یہ صورتحال گندم کی فصل کے لیے تشویشناک ہے، جو پہلے ہی حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے باعث بوائی کے کم ہدف کا سامنا کر رہی ہے۔ گندم کی فصل اس وقت آخری پانی دینے کے نازک مرحلے میں ہے اور مارچ کے آخر تک کٹائی کے لیے تیار ہو جائے گی۔

حالیہ بارشوں کا اثر

ارسا نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں کا کھڑی فصلوں پر مثبت اثر پڑا ہے۔ خوش قسمتی سے، ان بارشوں نے انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم (IBIS) میں بھی مثبت کردار ادا کیا ہے، اور واٹر اکاؤنٹس رپورٹ میں پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبوں کے لیے انڈینٹ کے قریب سپلائی جاری کی جا رہی ہے۔

اتھارٹی کے مطابق، یکم اکتوبر 2024 سے 28 فروری 2025 تک کی واٹر اکاؤنٹس رپورٹ کے مطابق:

  • پنجاب کو 20 فیصد پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
  • سندھ کو اسی مدت کے دوران 14 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
  • ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے 2 اکتوبر 2024 کو 16 فیصد شارٹ فال کی منظوری دی تھی۔

ارسا کو امید ہے کہ آنے والی بارشیں بھی آبپاشی کے نظام میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اس سلسلے میں، صوبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین