عملہ اور ایجنسیاں
حال ہی میں شائع ہونے والے "اسرائیل” کے کے اے این نیوز کے سروے میں تقریباً نصف جواب دہندگان نے محسوس کیا کہ "اسرائیل” کو جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ساتھ مزید مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔صرف 9% نے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی، چاہے اس کی قیمت باقی ماندہ "اسرائیلی” قیدیوں کو حراست میں چھوڑنے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ تقریباً 34% جواب دہندگان نے اس فریم ورک کی حمایت کی جو امریکہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس میں جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی طور پر باقی ماندہ قیدیوں میں سے نصف کی رہائی شامل تھی۔ 13% نے کہا کہ وہ ابھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں”اسرائیل” نے غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کو روک دیا ہے، جس کے نتیجے میں محصور فلسطینی علاقے میں خوراک کی قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی ناکہ بندی کے تباہ کن نتائج سے خبردار کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کا کہنا ہے کہ ان کے خوراک کے ذخائر صرف دو ہفتے تک چل سکیں گے۔
"اسرائیل” کا کہنا ہے کہ حماس کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع پر اتفاق کرنا ہوگا، حالانکہ دونوں فریقوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ "اسرائیل” کے چینل 12 ٹیلی ویژن نے پہلے اطلاع دی تھی کہ قابض حکومت اگلے 10 دنوں میں غزہ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
دریں اثناء، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو "اسرائیل” کے بڑے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے حماس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام "اسرائیلی” قیدیوں کو رہا کرے، جسے انہوں نے "آخری انتباہ” قرار دیا۔ حماس نے واضح کیا ہے کہ مزاحمتی تحریک جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے پر اصرار کرتی ہے اور کسی بھی "اسرائیلی” قیدی کو جنگ بندی کے بغیر رہا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹرمپ کی مزاحمتی تحریک کے خلاف دھمکیوں کو بے وقعت قرار دیا۔ سینئر ترجمان، سمیع ابو زہری نے نشاندہی کی کہ اگر کوئی دھمکیاں دی جانی چاہئیں تو وہ ان لوگوں کو دی جانی چاہئیں جو جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد سے انکار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس معاہدے پر کاربند ہے اور اس راہ پر گامزن رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دھمکیاں نہ صرف انہیں خوفزدہ نہیں کرتیں بلکہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

