مارچ 07, 2025
ایلون مسک کی قائم کردہ خلائی کمپنی اسپیس ایکس کو ایک اور آزمائشی مشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جب اس کا جدید ترین اسٹارشپ راکٹ لانچ کے چند منٹ بعد خلا میں تباہ ہو گیا۔ تاہم، راکٹ کا بوسٹر مرحلہ کامیابی سے لانچنگ ٹاور پر واپس آ گیا، جو آزمائشی پرواز کا ایک مثبت پہلو رہا۔
اسٹارشپ، جو کہ 403 فٹ بلند ایک جدید ترین راکٹ ہے، کو امریکی ریاست ٹیکساس سے مقامی وقت کے مطابق شام 6:30 بجے خلا میں بھیجا گیا۔ لانچ کے بعد، ابتدائی مراحل میں راکٹ کی کارکردگی مستحکم رہی، اور بوسٹر کامیابی سے اسٹارشپ کے اوپری حصے سے الگ ہو کر لانچنگ ٹاور پر بحفاظت واپس آ گیا۔
راکٹ کی پرواز معمول کے مطابق جاری تھی، تاہم چند منٹ بعد اسٹارشپ کے متعدد انجنز بند ہونا شروع ہو گئے، جس کے نتیجے میں خلائی جہاز کا کنٹرول متاثر ہوا۔ کچھ ہی دیر میں، کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اسٹارشپ سے رابطہ کھو چکی ہے۔
راکٹ کی تباہی کے بعد، اس کے ملبے کو جنوبی فلوریڈا اور کیریبئن جزائر بہاماس میں زمین پر گرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ممکنہ خطرات کے پیش نظر، امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے رات 8 بجے تک ریاست فلوریڈا کے شہر میامی، فورٹ لوڈرڈیل، پام بیچ، اور اورلینڈو کے ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
ماضی کے تجربات اور اسپیس ایکس کا مشن
یہ اسٹارشپ کی آٹھویں آزمائشی پرواز تھی۔ اس سے قبل، 16 جنوری کو بھی اسپیس ایکس کا ایک راکٹ پرواز کے دوران ناکام ہو گیا تھا۔ ایلون مسک کا مشن ایسے راکٹ تیار کرنا ہے جو نہ صرف خلا میں سیٹلائٹس کی تنصیب کو زیادہ مؤثر بنائیں بلکہ انسانوں کو چاند اور مریخ تک لے جانے کی بھی صلاحیت رکھیں۔
اسپیس ایکس کا باضابطہ بیان
اسپیس ایکس نے اپنے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی کہ راکٹ کے پچھلے حصے میں تکنیکی خرابی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں متعدد انجنز بند ہو گئے اور اسٹارشپ کا کنٹرول متاثر ہوا، جس کے بعد خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
کمپنی کے مطابق، اسٹارشپ سے آخری رابطہ پرواز کے تقریباً 9 منٹ 30 سیکنڈ بعد ہوا تھا، جس کے بعد کنکشن ختم ہو گیا۔

