ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی افریقہ کے خلاف ایگزیکٹو آرڈر پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جنوبی افریقہ کو دی جانے والی بیشتر غیر ملکی امداد کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ ایگزیکٹو آرڈر کو نافذ کیا جا رہا ہے۔
دی گارڈین کے ذریعے حاصل کردہ ایک کیبل کے مطابق، یہ ہدایت ایگزیکٹو آرڈر 14204 کو نافذ کرتی ہے، جو امریکی انتظامیہ کے مطابق جنوبی افریقہ کے "قابل مذمت اقدامات” کو نشانہ بناتی ہے۔
یہ کیبل، جو سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے جاری کی، تمام سرکاری محکموں کو امداد کی تقسیم کو معطل کرنے کی ہدایت دیتی ہے، تاہم کچھ مخصوص استثنیٰ دیے گئے ہیں۔ دستاویز میں درج ہے کہ:
"ای او 14204 کے مؤثر نفاذ کے لیے، تمام بیوروز، دفاتر اور مشنز جنوبی افریقہ کو دی جانے والی تمام امداد یا معاونت کو روک دیں۔”
یہ معطلی 7 فروری کو جاری کیے گئے ٹرمپ کے حکم کے بعد عمل میں آئی ہے، جو امریکی غیر ملکی امداد کے ازسرنو جائزے کا حصہ ہے۔ اس ایگزیکٹو آرڈر میں خاص طور پر جنوبی افریقہ میں "سفید فام آفریکانرز کے خلاف غیر منصفانہ نسلی امتیاز” کا حوالہ دیا گیا ہے—یہ وہ افراد ہیں جو ڈچ نوآبادیاتی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ماضی میں اپارتھائیڈ نظام نافذ کرنے کے ذمہ دار تھے، جو 1994 تک سیاہ فام اکثریت کے بنیادی حقوق سلب کرتا رہا۔
مبصرین کے مطابق، امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف جنوبی افریقی نژاد ارب پتی ایلون مسک سے متاثر ہوسکتا ہے، جنہوں نے بارہا اپنے آبائی ملک پر "کھلے عام نسل پرستانہ پالیسیوں” کا الزام عائد کیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس کے مؤقف کو متاثر کیا ہے۔
دی گارڈین کے مطابق، سفید فام جنوبی افریقی باشندے، جو ملک کی کل آبادی کا صرف 7 فیصد ہیں، اب بھی ملکی دولت اور زمین کے بڑے حصے پر قابض ہیں۔
امدادی استثنیٰ اور سخت شرائط
روبیو نے امدادی استثنیٰ دینے کا اختیار پیٹ ماروکو کو سونپ دیا ہے، جو ایک ٹرمپ وفادار ہیں اور اس سے قبل USAID اور محکمہ خارجہ میں غیر ملکی امداد میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی نگرانی کر چکے ہیں۔
کیبل میں دی گئی ہدایات کے مطابق، استثنیٰ کے لیے "بہت بلند معیار” مقرر کیا گیا ہے، اور صرف امریکی عالمی ایچ آئی وی/ایڈز پروگرام (PEPFAR) کو اضافی جائزے کے بغیر جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دیگر تمام امدادی پروگرام، جنہیں جنوری میں غیر ملکی امداد کی عارضی معطلی سے استثنیٰ حاصل تھا، اب خصوصی منظوری کے بغیر جاری نہیں رہ سکیں گے۔
زمین کی پالیسی اور اسرائیل کے خلاف مقدمے پر سفارتی تنازع
امداد کی معطلی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں تازہ ترین اضافہ ہے۔ تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب ٹرمپ نے جنوبی افریقہ پر زمین کی اصلاحات کی پالیسی کو سفید فام شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا، جسے صدر سیرل رامافوسا نے "گمراہ کن معلومات” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
متنازعہ زمین کے اصلاحاتی بل کے تحت، بعض مخصوص حالات میں حکومت نجی املاک کو بغیر معاوضہ ضبط کر سکتی ہے۔ تاہم، اس پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی ضبطگی کے واقعات نایاب ہوں گے اور عدالتی نظرثانی کے تابع ہوں گے۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کی قیادت کو بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں "اسرائیل” کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں مرکزی کردار ادا کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفید فام آفریکانرز کو امریکہ میں بطور مہاجرین قبول کرنے کی پیشکش بھی کی، جس پر پریٹوریا (جنوبی افریقی حکومت) کی جانب سے سخت ردعمل آیا۔
تجارتی تعلقات اور موسمیاتی پالیسی پر اثرات
امریکی امداد کی معطلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی افریقہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تعلقات پر دوبارہ مذاکرات کر رہا ہے۔ اس پر خدشات بڑھ رہے ہیں کہ افریقی گروتھ اینڈ اپورچونٹی ایکٹ (AGOA) کا خاتمہ ہو سکتا ہے، جو امریکی منڈیوں تک بلاتعطل رسائی فراہم کرتا رہا ہے اور اربوں ڈالر کی ڈیوٹی فری برآمدات کو ممکن بناتا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، جنوبی افریقہ نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے جسٹ انرجی ٹرانزیشن پارٹنرشپ (JETP) سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے منصوبوں کی مالی اعانت فراہم کرتا تھا۔
ٹرمپ کے بین الاقوامی موسمیاتی مالیاتی اقدامات ختم کرنے کے فیصلے کے بعد یہ ایک اہم پیشرفت ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

