جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیابو عبیدہ کی اسرائیل کو وارننگ: دھمکیاں قیدیوں کو آزاد کروا سکیں...

ابو عبیدہ کی اسرائیل کو وارننگ: دھمکیاں قیدیوں کو آزاد کروا سکیں گی نہ ہمیں توڑ سکیں گی
ا

القصام بریگیڈ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی قابض افواج کو جنگ دوبارہ شروع کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور انہوں نے کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری کا عندیہ دیا ہے۔

القصام بریگیڈ کے عسکری ترجمان ابو عبیدہ نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جنگ کی دھمکیاں صرف قابض افواج کے لیے مزید مایوسی کا سبب بنیں گی اور قیدیوں کی رہائی کا باعث نہیں بنیں گی۔

رمضان المبارک کے آغاز پر اپنے ٹیلیگرام چینل پر جاری کردہ ویڈیو خطاب میں ابو عبیدہ نے کہا:
"ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور ہر ممکنہ صورتحال کے لیے آمادہ ہیں، اور اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ہم دشمن کی باقی ماندہ ساکھ بھی مٹی میں ملا دیں گے۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "جو کچھ دشمن جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، وہ دھمکیوں اور چالاکیوں سے بھی حاصل نہیں کر سکے گا،” اور خبردار کیا کہ اگر فلسطینیوں کے خلاف جارحیت میں شدت آئی تو کئی اسرائیلی قیدی ہلاک ہو سکتے ہیں۔

مسلم امت سے خطاب کرتے ہوئے، ابو عبیدہ نے دنیا کے دو ارب مسلمانوں کو یاد دلایا کہ غزہ کے عوام "نسل کشی، بھوک اور جبری بے دخلی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔” انہوں نے امت سے سوال کیا: "آپ اپنی عزت و وقار کے دفاع کے لیے کیا کریں گے قبل اس کے کہ ظالموں کے ہاتھ آپ کے گھروں تک پہنچ جائیں؟”

جنگ بندی معاہدے کی پاسداری

جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بات کرتے ہوئے، ابو عبیدہ نے وضاحت کی کہ القصام بریگیڈ اس معاہدے کی پاسداری صرف برادر ممالک کے ضامنوں کے احترام میں کر رہی ہے۔

انہوں نے اسرائیلی قابض افواج پر الزام عائد کیا کہ وہ متعدد وعدوں سے مکر چکی ہیں، جنہیں انہوں نے فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: "دشمن نے پورے خطے میں—چاہے وہ غزہ ہو، لبنان، شام یا کوئی اور جگہ—ظلم، ہٹ دھرمی اور تکبر کا رویہ اپنایا ہوا ہے، جس کی جڑیں اس کے مجرمانہ اور سفاک ذہن میں پیوست ہیں۔”

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا: "آپ کے دینی بھائیوں نے اپنا روزہ پاکیزہ خون سے مقدس کر دیا ہے،” اور زور دیا کہ مسلم دنیا کو اس وقت تک عالمی سطح پر عزت و وقار حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ مقدس سرزمین کو قابضین کی نجاست سے پاک نہیں کر دیا جاتا۔

انہوں نے دنیا بھر کے منصف مزاج افراد اور انسانی حقوق کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو بے نقاب کریں۔ انہوں نے مغربی ممالک کی دوغلی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "یہ لوگ دشمن کے درجنوں قیدیوں کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، لیکن ہمارے قیدیوں کی سلامتی کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔”

ابو عبیدہ نے یمنی عوام کو سلام پیش کیا کہ وہ مسلسل اسرائیلی دشمن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے مغربی کنارے میں مزاحمت کاروں اور فدائی کارروائیاں کرنے والے مجاہدین کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

‘اسرائیل’ غزہ میں نسل کشی دوبارہ شروع کر سکتا ہے

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ "اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی لمحے، مذاکرات کے 42 ویں دن سے، اگر محسوس کرے کہ بات چیت بے نتیجہ ہے، تو وہ مذاکرات سے دستبردار ہو کر دوبارہ جنگ شروع کر دے۔”

انہوں نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں کافی فاصلہ ہے، جو مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا: "ہمارے سامنے ایک تجویز موجود ہے۔ ہم اب بھی معاہدے میں شامل ہیں، ہم معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہے، لیکن ہم فوری طور پر جنگ کی طرف بھی واپس نہیں جا رہے۔”

انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا: "کون جانتا ہے، شاید ہمیں دوبارہ جنگ کی ضرورت پڑے۔”

حماس کو مخاطب کرتے ہوئے، نیتن یاہو نے وارننگ دی: "اگر تم نے ہمارے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا، تو تمہیں ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین