جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانگلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025: پاکستان دوسرا بڑا متاثرہ ملک قرار، ٹی ٹی...

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025: پاکستان دوسرا بڑا متاثرہ ملک قرار، ٹی ٹی پی تیزی سے ابھرتا ہوا دہشت گرد گروپ
گ

Global Terrorism Index (GTI) 2025 کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا دہشت گرد گروپ قرار دیا گیا ہے، جس کی کارروائیوں میں ہونے والی اموات میں 90% اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

2024 میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں خطرناک اضافہ ہوا، جن کی تعداد 517 سے بڑھ کر 1,099 تک پہنچ گئی — جو GTI کی تاریخ میں پہلی بار 1,000 سے تجاوز کر گئی۔ اموات میں بھی 45% اضافہ دیکھنے میں آیا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان میں بھی اپنا اثر بڑھایا ہے، اور 2024 میں اس گروپ کے حملوں میں 558 افراد جاں بحق ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کی ہے، جس کے باعث یہ گروپ سرحد پار حملوں اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کو مزید وسعت دے رہا ہےٹی ٹی پی 2007 میں قائم ہوئی اور یہ پاکستان میں شدت پسندانہ شریعت کے نفاذ اور قبائلی علاقوں سے فوجی انخلا کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ یہ گروپ القاعدہ سے گہرے تعلقات رکھتا ہے اور مسلسل پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، شہریوں اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔یہ رپورٹ عالمی سطح پر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی خطرناک تصویر پیش کرتی ہے۔

GTI 2025 کے مطابق:

🔴 دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی تعداد ایک سال میں 58 سے بڑھ کر 66 ہو گئی، جس سے تقریباً ایک دہائی کی بہتری کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

اہم نکات:

  • ساحل ریجن (افریقہ) دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں برکینا فاسو میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ ہوئیں۔
  • داعش اب بھی دنیا کی سب سے مہلک تنظیم ہے، جو 22 ممالک میں 1,805 اموات کی ذمہ دار ہے۔
  • مغربی ممالک میں دہشت گرد حملوں میں 63% اضافہ ہوا، جن میں 93% حملے اکیلے افراد (Lone Wolves) کے ذریعے کیے گئے۔
  • ایران میں بھی دہشت گردی سے اموات میں اضافہ ہوا، جس کا زیادہ تر ذمہ دار داعش خراسان (ISK) کو قرار دیا گیا۔

مغربی ممالک کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ:

جہاں دہشت گردی روایتی طور پر تنازع زدہ علاقوں تک محدود تھی، اب مغربی ممالک میں بھی شدت پسند افراد کے حملے بڑھ رہے ہیں۔

  • جرمنی، سویڈن، آسٹریلیا جیسے ممالک میں کئی سال بعد بڑے حملے ریکارڈ ہوئے۔
  • برطانیہ میں 18 سال سے کم عمر افراد کی دہشت گردی سے متعلق گرفتاریوں کی شرح 42% رہی، جس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا اور گیمنگ پلیٹ فارمز پر آن لائن انتہا پسندی ہے۔

خطے میں بڑھتی بےچینی:

  • مشرق وسطیٰ (MENA) میں حملوں میں تو 7% کمی آئی ہے، مگر غزہ اور شام میں کشیدگی اب بھی خطرے کا باعث ہے۔
  • اسرائیل کے فلسطین پر حملے کے اثرات مغرب میں بھی محسوس ہو رہے ہیں، جہاں اسلاموفوبیا اور یہود مخالف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔

جنوبی ایشیا:

  • پاکستان اور افغانستان بدستور دہشت گردی کے بڑے مرکز ہیں۔
  • طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کو مزید تقویت دی ہے، جنہوں نے اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔

بدلتا ہوا منظرنامہ:

دہشت گرد گروہ اب:

  • مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے پروپیگنڈا
  • خفیہ پیغامات
  • کرپٹو کرنسی کے ذریعے فنڈنگ
    جیسے جدید ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی کی بڑھتی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اس بدلتے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتوں کو فوری اور مؤثر حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین