لبنانی اسلامی اسکالر کا الزام: اسکائی نیوز کی میرے خلاف ‘بہتان مہم’، آسٹریلیا میں داخلے پر پابندی لگوانے کی سازش
ایک لبنانی اسلامی اسکالر جن کا آسٹریلیا کا ویزا حال ہی میں منسوخ کر دیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ اسکائی نیوز نے ان کے خلاف ایک "بہتان مہم” چلائی تاکہ انہیں اس بحرالکاہل ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔حسین مکی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک کی جانب سے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران میلبرن اور سڈنی میں ان کی تقریری دورے کے لیے ویزا منسوخ کرنے کے پس پردہ یہی مہم کارفرما ہے۔ بدھ کو اسکائی نیوز آسٹریلیا کے ایک براہ راست پروگرام میں میزبان شری مارکسن نے الزام لگایا کہ مکی "خطرناک نظریات” پھیلا رہے ہیں اور "دہشت گردی کا دفاع” کر رہے ہیں۔ مارکسن نے سوشل میڈیا پر بھی وزیر داخلہ پر تنقید کی کہ انہوں نے اسکالر کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے حوالے سے سوالات کا جواب کیوں نہیں دیا۔ مکی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ ایک "بہتان مہم” کا نشانہ بنے ہیں، جہاں صہیونی اکاؤنٹس نے آسٹریلوی وزیر کو ان کا ویزا منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے مزید لکھا:
"اگر آپ آزادی اظہار رائے پر اس حملے اور جابرانہ سنسرشپ کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں … تو وزیر داخلہ (برک) کو یہ پیغام دیں کہ آپ اس بات کو ہرگز قبول نہیں کریں گے کہ اسکائی نیوز طے کرے کہ کون ملک میں داخل ہو سکتا ہے (خاص طور پر ایسی بے بنیاد اور ناقص صحافت کی بنیاد پر)اس سے قبل، لبنانی اسلامی اسکالر حسین مکی نے سید حسن نصر اللہ کو دنیا کے "عظیم ترین حریت پسندوں” میں سے ایک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے شہید رہنما کی نمازِ جنازہ میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت "مضبوط اور قائم” ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر 2024 میں، اسرائیل نے امریکی ساختہ بنکر بسٹنگ بموں کا استعمال کرتے ہوئے جنوبی بیروت میں فضائی حملے کے دوران سید حسن نصر اللہ کو شہید کر دیا تھا۔ان کی عظیم الشان جنازہ تقریب 23 فروری 2025 کو منعقد ہوئی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور مزاحمتی تحریک سے اپنی وابستگی اور حمایت کا مظاہرہ کیا۔ سید حسن نصر اللہ کی قیادت میں، حزب اللہ نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی محصور پٹی پر اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ نسل کش جنگ کے بعد فلسطینیوں کی حمایت میں ایک محاذ کھولا۔ حزب اللہ نے مقبوضہ علاقوں میں متعدد جوابی حملے کیے اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل کو 27 نومبر 2024 کو حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا، کیونکہ میدانِ جنگ میں شدید نقصانات اٹھانے کے باوجود وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس دوران اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 4,000 سے زائد افراد شہید ہوئے، تاہم حزب اللہ کی مزاحمت مضبوطی سے جاری رہی اور اسرائیل کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔

