جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیجنوبی کوریا میں عوامی غصہ، امریکی جنگی مشقوں میں 15 شہری زخمی

جنوبی کوریا میں عوامی غصہ، امریکی جنگی مشقوں میں 15 شہری زخمی
ج

جنوبی کوریا کے شہر پوچون میں امریکی-جنوبی کوریا جنگی مشقوں کے دوران 15 شہری زخمی، عوام کا فوری خاتمے کا مطالبہ

جنوبی کوریا کے شہر پوچون کے رہائشیوں نے امریکی اور جنوبی کوریا کی مشترکہ جنگی مشقوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ان مشقوں کے دوران "غیر معمولی” بمباری کے نتیجے میں شہری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث کم از کم 15 افراد زخمی اور متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔پوچون، جو جنوبی کوریا کے صوبہ گیونگی میں واقع ہے اور شمالی کوریا کے ساتھ شدید طور پر عسکری بارڈر کے قریب ہے، جمعرات کے روز ایک 222 کلوگرام وزنی امریکی ساختہ MK82 بم سے متاثر ہوا۔ اس بمباری میں ایک چرچ سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور 15 مقامی افراد زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ جنوبی کوریا کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگی طیارے سے گرا ہوا بم غلطی سے مشق کے طے شدہ حدود سے باہر جا گرا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ مقامی رہائشیوں نے طویل عرصے سے ان مشقوں کے شور اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات پر احتجاج کیا ہے، لیکن ان کے تحفظات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی-جنوبی کوریا مشترکہ مشقوں کے نتیجے میں عام شہری متاثر ہوئے ہوں۔ 2010 میں ہونے والی ایک فوجی مشق کے دوران بھی امریکی اور جنوبی کوریا کی افواج نے شمالی کوریا کی سمندری حدود میں گولہ باری کی تھی، جس کے جواب میں شمالی کوریا نے جوابی کارروائی کی تھی، جس میں 4 جنوبی کوریائی شہری اور فوجی ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے شمالی کوریا ان مشترکہ مشقوں کو اپنی سرزمین پر حملے کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی جنگی مشقیں، شمالی کوریا کا مضبوط جوہری دفاع کا عزم

امریکہ اور جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی سرحد کے قریب مشترکہ فوجی مشقیں کیں، جن کے جواب میں شمالی کوریا (ڈی پی آر کے) نے اپنے مضبوط جوہری دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی فوج 1950 سے 1953 کے درمیان ہونے والی کوریائی جنگ کے خاتمے کے بعد سے جنوبی کوریا کے ساتھ باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقیں کر رہی ہے۔

فی الحال امریکہ کے 24,000 سے زائد فوجی جنوبی کوریا میں تعینات ہیں۔

شمالی کوریا ان مشترکہ مشقوں کو اپنے خلاف جارحیت اور حملے کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے اور متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذریعے سخت دفاع کرے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین