ٹرمپ کی دھمکی: اگر اسرائیلی قیدی رہا نہ کیے گئے تو غزہ کے فلسطینیوں اور حماس کے ارکان کو قتل کر دیا جائے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ کی پٹی میں موجود فلسطینی اور حماس مزاحمتی گروپ کے ارکان فوری طور پر باقی اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہیں کرتے تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں آٹھ رہا ہونے والے قیدیوں سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاابھی فوراً تمام یرغمالیوں کو رہا کرو، بعد میں نہیں، اور تمام لاشیں واپس کرو… ورنہ تمہارا خاتمہ کر دیا جائے گا۔”ٹرمپ نے واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو مکمل فوجی امداد دینے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا میں اسرائیل کو وہ سب کچھ فراہم کر رہا ہوں جس کی اسے یہ کام مکمل کرنے کے لیے ضرورت ہےاگر تم نے میرے کہنے پر عمل نہ کیا تو ایک بھی حماس رکن محفوظ نہیں رہے گا۔انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی قیدیوں کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو "بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گیٹرمپ نے کہا:
"یہ تمہارے لیے آخری وارننگ ہے! قیادت کے لیے اب غزہ چھوڑنے کا وقت ہے، جب تک کہ موقع باقی ہے۔” انہوں نے غزہ کے عوام کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا:ایک خوبصورت مستقبل تمہارا منتظر ہے، لیکن تب نہیں اگر تم یرغمالی رکھو گے۔ اگر ایسا کیا تو تم مارے جاؤ گےیہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی کہ امریکہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے براہ راست حماس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ مسلط کر دی تھی، جو حماس کی تاریخی کارروائی کے جواب میں شروع ہوئی۔ یہ کارروائی اسرائیلی مظالم کے ردعمل میں کی گئی تھی۔
تل ابیب حکومت اب تک اپنے اعلانات کے مطابق قیدیوں کی رہائی اور حماس کے خاتمے کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ غزہ میں کم از کم 48,440 فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
سرائیل نے غزہ جنگ بندی کے تین مراحل پر مشتمل حماس کے دیرینہ مذاکراتی مطالبات قبول کیے
19 جنوری کو شروع ہونے والی جنگ بندی کے تحت پہلے مرحلے میں، جو ہفتے کے روز ختم ہوا، 33 اسرائیلی قیدیوں (جن میں آٹھ لاشیں شامل تھیں) کو رہا کیا گیا، جن کے بدلے میں قابض اسرائیلی جیلوں میں قید تقریباً 2,000 فلسطینی اغوا شدگان کو رہا کیا گیا۔
تاہم، اسرائیل نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر آگے بڑھنے سے انکار کر دیا، جو مستقل جنگ بندی، غزہ سے قابض فوجیوں کے مکمل انخلا اور تمام قیدیوں کی رہائی کا سبب بن سکتا تھا۔
حماس کا الزام: اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے
حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے "جنگ کے خاتمے اور غزہ سے مکمل انخلا کے وعدے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے ختم ہونے کے بعد، اسرائیل نے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں تمام انسانی امداد کی فراہمی روک دی۔
غزہ میں انسانی امداد کی بندش کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دے کر عالمی سطح پر مذمت بھی کی گئی ہے۔

